راولپنڈی: گزشتہ برس مئی 2025 میں بھارت کے خلاف لڑی جانے والی چار روزہ جنگ، جسے ‘معرکہِ حق’ اور ‘آپریشن بنیان مرصوص’ کا نام دیا گیا، کی پہلی سالگرہ کے موقع پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں ایک عظیم الشان اور پروقار تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب کے دوران دشمن کی جارحیت کے خلاف تاریخی فتح کا جشن منایا گیا اور دفاعِ وطن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
یادگارِ شہدا پر حاضری اور تقریب کا آغاز
تقریب کا آغاز مسلح افواج کے سربراہان کی جانب سے یادگارِ شہدا پر حاضری سے ہوا۔ مہمانِ خصوصی، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف کے ہمراہ یادگارِ شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔ اس موقع پر مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے روایتی اعزاز کے ساتھ سلامی پیش کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، یہ دن مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی اعتماد کے اس مضبوط رشتے کی یاد دلاتا ہے جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
بھارت کی شکست اور عالمی ثالثی کا انکشاف
اپنے کلیدی خطاب میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ مئی 2025 کی لڑائی کے دوران جب بھارتی فوج کو عبرت ناک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، تو مودی سرکار نے امریکی قیادت کے ذریعے جنگ بندی کی بھیک مانگی تھی۔ فیلڈ مارشل نے انکشاف کیا کہ “شکست خوردہ انڈیا نے امریکہ کی سیاسی قیادت کے ذریعے ثالثی کی پیشکش کی، جسے پاکستان نے خطے کے وسیع تر امن کی خاطر قبول کیا۔” انہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سیز فائر کا اعلان دراصل بھارت کی عسکری کمزوری اور پاکستان کے دفاعی غلبے کا نتیجہ تھا۔
دو نظریات کا معرکہ اور عسکری کامیابیاں
فیلڈ مارشل نے ‘معرکہِ حق’ کو محض دو ممالک کے درمیان جنگ نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب سے شروع ہونے والے اس آپریشن میں پاکستان کے شیر دل شاہینوں اور ‘فتح میزائلوں’ نے دشمن کے 26 سے زائد اہم عسکری اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہینوں نے نہ صرف دشمن کے جدید جنگی جہازوں کو زمین بوس کیا بلکہ ان کی فضائیہ کو اپنی زمین تک محدود رہنے پر مجبور کر دیا۔ فیلڈ مارشل نے شہدا بشمول نہتی خواتین اور معصوم بچوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی کامیابی کو اللہ کا احسان اور اپنی طاقت کو ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔
بھارت کا خواب اور علاقائی طاقت کا توازن
بھارت کے عزائم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ ہندوستان کا خواب ہے کہ وہ پاکستان کو سفارتی تنہائی اور عسکری جارحیت کا نشانہ بنا کر خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرے، لیکن یہ خواب ان کے قد کاٹھ اور صلاحیت سے کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “پاکستان دشمن کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہونے دے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ جب دشمن کے میزائل گرے تو پاکستانی قوم ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر اپنی افواج کے پیچھے کھڑی ہوگئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ہی ہماری اصل قوت ہیں۔
جدید جنگی تقاضے اور ‘ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز’ کا قیام
مستقبل کے دفاعی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے بتایا کہ عصرِ حاضر کی جنگیں ملٹی ڈومین آپریشنز پر مشتمل ہوں گی، جن میں ڈرونز، سائبر جنگ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا کلیدی استعمال ہوگا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ افواجِ پاکستان کو ان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ‘ڈیفنس فورسز ہیڈ کوارٹرز’ قائم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے، اور اگر دوبارہ کسی مہم جوئی کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انتہائی خطرناک اور تکلیف دہ ہوں گے۔
سفارتی کامیابیاں اور بین الاقوامی کردار
سفارتی محاذ پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ گزشتہ ایک سال میں پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے کو ایک عظیم سنگِ میل قرار دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لبنان میں جنگ بندی کرانے اور ایران و امریکہ کے درمیان امن کی مخلصانہ کاوشوں میں پاکستان کے مثبت کردار کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان ایک ذمہ دار اور غیر جانبدار مذاکرات کار کے طور پر دنیا بھر میں پہچانا جا رہا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مسئلہ کشمیر
فیلڈ مارشل نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردی کے مراکز کا مکمل خاتمہ کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت اب روایتی جنگ میں ناکامی کے بعد دوبارہ دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے، لیکن ہم ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے اور یہ جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ کشمیر کے حوالے سے انہوں نے عزم دہرایا کہ پاکستان ہر محاذ پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گا کیونکہ کشمیر کے بغیر پاکستان کی داستان ادھوری ہے۔
صدر اور وزیراعظم کے پیغامات
تقریب کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خصوصی پیغامات جاری کیے۔ صدر زرداری نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی جرات مندانہ قیادت کو فتح کا کلیدی عنصر قرار دیا، جبکہ وزیراعظم نے شہدا اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کو نہ کوئی مرعوب کر سکتا ہے اور نہ ہی جھکایا جا سکتا ہے۔ ملک بھر میں آج ‘یومِ تشکر’ منایا جا رہا ہے، جہاں عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ والہانہ محبت اور یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔