کراچی: ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے درمیان حکومت نے کمرشل طیاروں کے ایندھن (جیٹ فیول) کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث ایوی ایشن انڈسٹری پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایوی ایشن ذرائع کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت میں 53 روپے 11 پیسے فی لیٹر کا بھاری اضافہ کیا گیا ہے، جو فضائی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
اس حالیہ اضافے کے بعد جیٹ فیول کی نئی قیمت بڑھ کر 441 روپے 66 پیسے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ معاشی ماہرین اور ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اس قدر بڑے اضافے سے ایئرلائنز کے آپریشنل اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کا براہِ راست اثر مسافروں پر پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق، جیٹ فیول مہنگا ہونے کی صورت میں ایئرلائنز اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے فضائی کرایوں میں مزید اضافہ کر سکتی ہیں، جس سے اندرون اور بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کی جیبوں پر اضافی بوجھ پڑے گا۔ قبل ازیں بھی ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث فضائی کمپنیاں کرایوں میں کئی بار اضافہ کر چکی ہیں، اور اب اس نئے اضافے نے فضائی صنعت کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔
دیکھئیے:پٹرول 14 روپے 92 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل 15 روپے فی لیٹر مہنگا