حکومت نے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بھاری اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی چھلانگ لگائی گئی ہے، جس کا مقصد معاشی صورتحال اور عالمی مارکیٹ کے اثرات کو متوازن کرنا بتایا جاتا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات
نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت میں 14.92 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد صارفین کو ایک لیٹر پیٹرول اب 414.78 روپے میں دستیاب ہوگا۔
مختصر مدت کے لیے نئی قیمتوں کا تعین
پیٹرولیم ڈویژن نے اس بار قیمتوں کے تعین کے حوالے سے اہم تبدیلی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی یہ نئی قیمتیں صرف ایک ہفتے کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔ ایک ہفتے بعد مارکیٹ کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے کر قیمتوں پر نظرثانی کی جائے گی۔
عوامی و معاشی حلقوں میں تشویش
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس حالیہ اضافے پر عوامی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں بار بار اضافے سے نہ صرف سفری اخراجات بڑھ رہے ہیں بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں اتنے بڑے ردوبدل سے بازاروں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔