کائنات کی بساط پر قدرت نے جتنے بھی رنگ بکھیرے ہیں، ان میں سب سے معتبر، گہرا اور مقدس رنگ ‘ماں’ کا ہے۔ ماں صرف ایک رشتہ نہیں، بلکہ انسانیت کی بقا، تہذیب کی نمو اور معاشرے کی اخلاقی بنیادوں کا سنگِ میل ہے۔ آج ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر ہم اس عظیم ہستی کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہیں جس کے وجود کی خوشبو سے زندگی کا چمن مہک رہا ہے۔ ماں کا درجہ اس قدر بلند اور ارفع ہے کہ خالقِ کائنات نے اپنی بے پایاں محبت کی تشبیہ کے لیے بھی اسی رشتے کا انتخاب کیا۔ یہ ماں ہی ہے جو ایک نسل کی آبیاری کرتی ہے اور معاشرے کو وہ افرادی قوت فراہم کرتی ہے جو ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کا ہنر جانتی ہے۔
انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے، وہ پہلی تربیت گاہ ہے جہاں ایک بچہ ‘آدمی’ سے ‘انسان’ بننے کا سفر شروع کرتا ہے۔ ماں کی کوکھ سے شروع ہونے والا یہ سفر شعور کی دہلیز تک پہنچتے پہنچتے ایثار، اخلاق اور محبت کے ان گنت اسباق سے لبریز ہو جاتا ہے۔ وہ اپنا دن رات، اپنی راحتیں اور اپنی تمام تر خواہشات اولاد کے مستقبل کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے۔ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ان ماؤں کا خاموش مگر کلیدی کردار ہے جنہوں نے کٹھن حالات، معاشی تنگی اور سماجی نشیب و فراز کے باوجود اپنی اولاد کو ٹوٹنے نہیں دیا اور انہیں معاشرے کا ایک کارآمد اور باوقار شہری بنا کر ملک کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔
لیکن آج کے اس ہنگامہ خیز دور میں، جہاں مادہ پرستی نے جذبوں کو دھندلا دیا ہے، ہمیں اپنی ان پانچ کروڑ محسنہ خواتین کے حالات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ جس ماں نے ہمیں بولنا سکھایا، کیا آج ہمارے پاس اس کی بات سننے کے لیے چند لمحے میسر ہیں؟ جدیدیت کی دوڑ میں مگن موجودہ نسل اکثر یہ بھول جاتی ہے کہ ماں کو صرف لباس اور خوراک کی آسائش نہیں، بلکہ سب سے بڑھ کر توجہ اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مشینی زندگی کے شور میں ہم نے ان کی خاموشیوں کو پڑھنا چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان میں زچہ و بچہ کی صحت کے تشویشناک اعداد و شمار—جہاں روزانہ درجنوں مائیں طبی سہولیات کی کمی کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں—ہماری اجتماعی بے حسی کا نوحہ پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ لمحہِ فکریہ نہیں کہ جو ہستی سب کو زندگی کی نوید دیتی ہے، وہ خود بنیادی علاج اور سہولیات کے لیے ترس رہی ہے؟
حقوقِ مادری کا تقاضا صرف سال میں ایک بار جذباتی تقاریر یا سوشل میڈیا پر تصاویر اپ لوڈ کرنا نہیں ہے۔ حقیقی خراجِ تحسین تو یہ ہے کہ ہم عملی طور پر ان کی زندگیوں میں آسانی لائیں۔ چاہے وہ دیہات کی کچی زمینوں پر ننگے پاؤں مشقت کرنے والی مائیں ہوں یا شہروں کی تیز رفتار زندگی میں اپنے گھروں کو جنت بنانے والی خواتین، ان کا حق ہے کہ انہیں وہ سماجی تحفظ اور طبی سہولیات فراہم کی جائیں جن کی وہ مستحق ہیں۔ ہمیں ایک ایسا معاشرتی ڈھانچہ بنانا ہوگا جہاں ماں کی ذہنی و جسمانی صحت کو ‘احسان’ نہیں بلکہ ‘بنیادی حق’ سمجھا جائے۔
آئیے آج اپنے رویوں کی اصلاح کا عہد کریں اور یہ تسلیم کریں کہ ہماری پوری زندگی ماں کے ایک آنسو کا بدل بھی نہیں ہو سکتی۔ یہ عہد کریں کہ اپنی ماؤں کے حقوق کی ادائیگی میں کسی کوتاہی سے کام نہیں لیں گے اور انہیں وہ مقامِ بلند دیں گے جس کا حکم ہمیں ہمارے دین اور اقدار نے دیا ہے۔
آج کا یہ دن پاکستان کی ہر اس ماں کے نام، جس کے قدموں تلے ہماری جنت ہے اور جس کی دعا میں ہماری بقا ہے۔ انہیں سلام، ان کے صبر کو سلام، اور ان کی بے لوث محبت کو سلام۔