افغانستان کے شمالی صوبہ بدخشاں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق طالبان مخالف تاجک ملیشیاؤں نے بعض اہم علاقوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مولوی زبیر کریم کی قیادت میں سرگرم ان عسکری گروہوں نے بدخشاں کے دو اہم اضلاع، ارگو اور شِکَے سے افغان طالبان (ٹی ٹی اے) کو پسپا کر کے وہاں اپنا قبضہ جما لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر تاجک حلقوں اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) کے حامیوں کی جانب سے ان فتوحات پر جشن کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں طالبان کی گرفت کمزور ہونے کی واضح علامت ہے۔
Tajik Militias Capture Parts of Afghanistan’s Badakhshan From Taliban
— Afghan Times (@AfghanTimes7) May 10, 2026
Reports say anti-Taliban Tajik militias under the command of Mawlawi Zabit Karim have captured the Argo and Shikai districts of Badakhshan from the Afghan Taliban (TTA).
Tajik-linked and anti-Taliban… pic.twitter.com/apScpqhRaL
اس دوران مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی برادری خصوصاً پاکستان اور تاجکستان جیسے ہمسایہ ممالک سے تعاون کی اپیل بھی کی جا رہی ہے۔ مزاحمتی گروہوں کا کہنا ہے کہ وسائل اور بیرونی امداد کے بغیر ان کامیابیوں کا تسلسل برقرار رکھنا مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان کی حکومت نے ان دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ افغانستان کے ان دور افتادہ علاقوں میں میڈیا کی محدود رسائی اور سخت پابندیوں کے باعث زمینی صورتحال کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق تاحال ممکن نہیں ہو سکی ہے۔