پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کو پیش کی گئی حالیہ رپورٹ کو حقائق کے منافی اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ سرکاری حکام نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا فیصلہ کسی تعصب کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریاست کی بقا، ملکی سلامتی اور حالیہ دہشت گردی کی لہر کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
سرکاری اعلامیے میں یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ پاکستان نے گزشتہ 40 سالوں سے 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کی، جنہیں صحت، تعلیم اور روزگار کے وہ حقوق دیے گئے جو دنیا کے کسی اور ملک نے مہاجرین کو فراہم نہیں کیے۔ تاہم حالیہ برسوں میں سکیورٹی کی سنگین صورتحال نے پاکستان کو بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں فیصلے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
پاکستان نے بین الاقوامی برادری کی توجہ خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور دہشت گردی کے واقعات کی جانب مبذول کرائی ہے۔ نیز واضح کیا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے بنوں حملے سمیت دیگر دہشت گردانہ کاروائیوں کے تانے بانے براہِ راست افغان سرزمین سے ملتے ہیں۔
سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے مطابق سرحد پار محفوظ ٹھکانوں سے آپریٹ کرنے والے عناصر پاکستان میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی سہولت کاری کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

حکام نے رپورٹ کی ساکھ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ محض 41 افراد کے محدود سروے کی بنیاد پر پاکستان جیسے بڑے ملک کے خلاف منظم بدسلوکی کا الزام لگانا بدنیتی پر مبنی ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ واپسی کے مراکز میں انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جا رہا ہے، تاہم اپنی سرزمین کو دہشت گردی کی نذر ہونے سے بچانا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔
پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی تنظیمیں یکطرفہ رپورٹس جاری کرنے کے بجائے افغان عبوری حکومت پر زور دیں کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے اور مہاجرین کی واپسی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔