افغانستان میں میڈیا ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں گزشتہ چند روز کے دوران ملک کے معروف میڈیا ہاؤس طلوع نیوز اور دیگر مقامی ایجنسیوں سے وابستہ متعدد صحافیوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس وقت مجموعی طور پر آٹھ صحافی طالبان کی انٹیلی جنس کے زیرِ حراست ہیں، جس سے افغان میڈیا کے حلقوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
صحافیوں کے لیے مشکلات
حالیہ کاروائیوں کے دوران طلوع نیوز کے دو صحافیوں منصور نیازی اور عمران دانش کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی خبر رساں ادارے ‘پیگارڈ’ سے وابستہ صحافی جاوید نیازی کو بھی کابل سے حراست میں لیا گیا ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ طالبان حکام اور ان کی انٹیلی جنس ایجنسی نے تاحال ان صحافیوں پر عائد الزامات یا ان کی گرفتاری کی وجوہات کے بارے میں کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، جس سے ان کی سلامتی کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
میڈیا کی آزادی
افغان صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صحافیوں کی اس طرح اچانک اور بغیر کسی قانونی جواز کے گرفتاری بین الاقوامی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق جاوید نیازی اور طلوع نیوز کے عملے کی گرفتاری اس سلسلے کی کڑی ہے جس کا مقصد میڈیا کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید سے روکنا اور معلومات کی آزادانہ فراہمی کو مسدود کرنا ہے۔
انسانی حقوق
صحافیوں کی بڑھتی ہوئی گرفتاریوں پر بین الاقوامی میڈیا واچ ڈاگ اور انسانی حقوق کے اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ میڈیا پر بڑھتا ہوا دباؤ افغانستان کے عالمی سطح پر تنہائی کا سبب بن سکتا ہے۔ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گرفتار صحافیوں کو فوری طور پر وکیل تک رسائی دی جائے اور اگر ان پر کوئی الزام ہے تو اسے منظرِ عام پر لایا جائے، بصورتِ دیگر انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔