خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقے فتخہ خیل میں پولیس اور ایف سی کی مشترکہ تنصیبات پر ایک منظم اور شدید حملہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں سکیورٹی فورسز کا اہم دفاعی حصار مکمل طور پر منہدم ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنصیبات ماضی میں 18 سے زائد مرتبہ نشانہ بنائی گئی تھیں، تاہم ہر بار حملہ آور ناکام رہے تھے۔ اس بار شدت پسندوں نے کثیر الجہتی اور کثیر الطبقاتی جنگی حکمت عملی اختیار کی، جس نے فورسز کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور عمارت مکمل طور پر منہدم ہوگئی۔ اس حملے نے نہ صرف پہلی دفاعی لائن کو تباہ کیا بلکہ سیکیورٹی حکام کو بھی حیران کر دیا ہے۔
بنوں کینٹ کی سکیورٹی
فتخہ خیل میں قائم یہ مرکز ایک ناقابل تسخیر قلعہ تصور کیا جاتا تھا، جس کا بنیادی مقصد بنوں کینٹ کی حفاظت اور شہر کو شدت پسندوں کے قبضے میں جانے سے روکنا تھا۔ عسکری ماہرین کے مطابق اس مرکز کی تباہی بنوں شہر کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ یہ مرکز کینٹ کی طرف بڑھنے والے خطرات کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔
کمانڈر عبدالعزیز کا کردار
اس حملے کی منصوبہ بندی تحریک طالبان پاکستان کے سینیئر کمانڈر عبدالعزیز نے کی، جو حافظ گل بہادر کے قریبی ساتھی اور گروپ کے اندر ’جیش تحریر الہند‘ نامی یونٹ کے سربراہ بتائے جاتے ہیں۔ خفیہ معلومات کے مطابق عبدالعزیز اس وقت حقانی نیٹ ورک کے ڈی فیکٹو آپریشنل سربراہ کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ انتظامات اس لیے کیے گئے ہیں تاکہ سراج الدین حقانی سیاسی طور پر فاصلہ برقرار رکھ کر دوحہ معاہدے کو برقرار رکھنے کا تاثر دے سکیں، جبکہ عملی طور پر وہ خود تمام کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہیں۔
القاعدہ سے روابط
رپورٹس کے مطابق کمانڈر عبدالعزیز القاعدہ کے ملٹری کمیشن کے رکن بھی ہیں اور مبینہ طور پر امریکہ کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں شامل رہے ہیں۔ ان کے دوہرے کردار نے خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں ایک طرف مقامی فورسز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دوسری طرف بین الاقوامی سطح پر اثر انداز ہونے والے نیٹ ورکس کے ساتھ اشتراک عمل جاری ہے۔