انتخابات کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد مرکزی فورسز کی تعیناتی بھی اب ایک بڑا تنازع بن چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی کے غیر معمولی اور سخت انتظامات نے ووٹرز کے اندر خوف و ہراس کی فضا پیدا کی، جس کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ بری طرح متاثر ہوا۔

May 12, 2026

پاکستان کی دوسری اننگز کا آغاز ہی مایوس کن رہا، جب پہلی وکٹ صرف 3 رنز پر گر گئی۔ پہلی اننگز کے سنچری میکر اذان اویس اس بار صرف 15 رنز بنا سکے، جبکہ کپتان شان مسعود ایک بار پھر ناکام رہے اور صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

May 12, 2026

بنوں کے علاقے فتخہ خیل میں سکیورٹی فورسز کی اہم تنصیبات پر کثیر الجہتی حملے کے نتیجے میں دفاعی حصار منہدم ہوگیا۔ حملے کی ماسٹر مائنڈ ٹی ٹی پی کمانڈر عبدالعزیز نے کی، جو حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ سے بھی منسلک ہیں۔

May 12, 2026

بی بی سی اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اس واقعے کو صرف شہری نقصان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم زمینی شواہد طالبان کی جانب سے شہری علاقوں میں اسلحہ ڈپو اور عسکری انفراسٹرکچر چھپانے کی خطرناک حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

May 12, 2026

افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ طالبان کی انٹیلی جنس نے طلوع نیوز کے دو اہم صحافیوں اور مقامی ایجنسی کے جاوید نیازی سمیت 8 صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے، جن کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں۔

May 12, 2026

پاکستان نے سی بی ایس نیوز کی جانب سے ایرانی طیاروں کی موجودگی سے متعلق رپورٹ کو گمراہ کن اور سنسنی خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ طیارے سفارتی مذاکرات کے لیے لاجسٹک سپورٹ کا حصہ تھے، جبکہ امریکی میڈیا کا بدلتا ہوا کارپوریٹ کنٹرول اور مخصوص اسرائیل نواز لابی اس پراپیگنڈے کے پیچھے اصل محرک معلوم ہوتی ہے۔

May 12, 2026

کابل کے اُمید مرکز کی تباہی پر تنازع، طالبان پر شہری علاقوں میں عسکری ڈھانچے اور اسلحہ ذخائر چھپانے کے الزامات

بی بی سی اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اس واقعے کو صرف شہری نقصان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم زمینی شواہد طالبان کی جانب سے شہری علاقوں میں اسلحہ ڈپو اور عسکری انفراسٹرکچر چھپانے کی خطرناک حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
بی بی سی اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اومیـد فیسلٹی واقعے کو صرف شہری نقصان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، تاہم زمینی شواہد طالبان کی جانب سے شہری علاقوں میں اسلحہ ڈپو اور عسکری انفراسٹرکچر چھپانے کی خطرناک حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ہونے والے حملے کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا طالبان شہری مراکز کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

May 12, 2026

بی بی سی اور اقوام متحدہ کے افغانستان مشن کی حالیہ رپورٹس میں اومیـد ڈرگ ریہیبلیٹیشن سینٹر کے واقعے کو زیادہ تر شہری ہلاکتوں کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔ تاہم، ان بیانیوں میں اس وسیع تر آپریشنل حقیقت کو کم اجاگر کیا گیا ہے کہ طالبان مبینہ طور پر شہری علاقوں کو عسکری سرگرمیوں، غیر ملکی جنگجوؤں کی موجودگی، اسلحہ ڈپو اور جنگی انفراسٹرکچر کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت طبی مراکز کو حاصل “محفوظ درجہ” سے متعلق سنگین قانونی سوالات پیدا کرتی ہے۔

اسلحہ کی منتقلی اور تنصیبات

افغان گرین ٹرینڈ کے مطابق سابق نائب صدر امراللہ صالح نے 2 مئی 2026 کو انکشاف کیا تھا کہ طالبان نے کابل کے باغِ قاضی علاقے میں شہری آٹے کی مارکیٹ کے قریب تقریباً 23 کنٹینرز اسلحہ اور بارود منتقل کیا ہے۔ اسی نوعیت کی اطلاعات اومیـد فیسلٹی کے بارے میں بھی موصول ہوئی ہیں، جہاں مبینہ طور پر اس مرکز اور قریبی شہری آبادی کے 200 میٹر کے اندر ڈرونز اور جدید اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات موجود تھیں، جس سے سنگین قانونی اور آپریشنل خدشات نے جنم لیا ہے۔

دھماکے اور تباہی

اگرچہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ ہسپتال کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا، تاہم جائے وقوعہ کی تصاویر اور تباہی کی شدت کچھ اور ہی کہانی بیان کرتی ہیں۔ آگ کے پھیلاؤ اور نقصان کے پیٹرن سے یہ خدشہ مزید مضبوط ہوتا ہے کہ وہاں عسکری مواد یا بارودی ذخائر موجود تھے جن کی وجہ سے “ثانوی دھماکے” ہوئے۔ ماہرین کے مطابق، صرف فضائی بمباری سے اس قدر شدید تباہی ممکن نہیں جب تک کہ اردگرد عسکری نوعیت کا بارودی مواد موجود نہ ہو۔

بین الاقوامی قانون

جنیوا کنونشن کے آرٹیکل 18 اور 19 کے مطابق طبی مراکز صرف اسی صورت محفوظ ہیں جب وہ مکمل طور پر انسانی امداد کے لیے استعمال ہوں۔ اگر ان مراکز کو عسکری سرگرمیوں یا اسلحہ چھپانے کے لیے استعمال کیا جائے تو ان کی قانونی حفاظت ختم ہو جاتی ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہری اور عسکری مقاصد کے درمیان واضح فرق لازمی ہے، لیکن اس معاملے میں عسکری لاجسٹکس کے استعمال نے ان حدود کو مبہم کر دیا ہے، جس کے باعث روم اسٹیٹ کے آرٹیکل 8 کے تحت ایسی سہولت قانونی طور پر فوجی ہدف تصور ہو سکتی ہے۔

پراپیگنڈا کی حکمتِ عملی

طالبان پر طویل عرصے سے یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ آرٹیکل 51(7) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی، مساجد اور اسکولوں کو “انسانی ڈھال” کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق طالبان نے ہلاکتوں کی جذباتی کہانیوں کو تو تیزی سے اجاگر کیا لیکن قریبی عسکری ڈھانچے کی موجودگی پر اٹھنے والے سوالات کو دبا دیا۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ کاروائیاں صرف تصدیق شدہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کی جاتی ہیں اور شہری علاقوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا ہی عام شہریوں کو خطرے میں ڈالنے کی اصل وجہ ہے۔

ذمہ داری کا تعین

مجموعی طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان شہری ڈھانچے کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر کے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی نقصان کو سیاسی یا پروپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ شہری علاقوں کی عسکریت کاری نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ براہِ راست معصوم جانوں کے زیاں کا باعث بنتی ہے، جس کی ذمہ داری ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جو آبادی کو جنگی مقاصد کے لیے ڈھال بناتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

انتخابات کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد مرکزی فورسز کی تعیناتی بھی اب ایک بڑا تنازع بن چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی کے غیر معمولی اور سخت انتظامات نے ووٹرز کے اندر خوف و ہراس کی فضا پیدا کی، جس کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ بری طرح متاثر ہوا۔

May 12, 2026

پاکستان کی دوسری اننگز کا آغاز ہی مایوس کن رہا، جب پہلی وکٹ صرف 3 رنز پر گر گئی۔ پہلی اننگز کے سنچری میکر اذان اویس اس بار صرف 15 رنز بنا سکے، جبکہ کپتان شان مسعود ایک بار پھر ناکام رہے اور صرف 2 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔

May 12, 2026

بنوں کے علاقے فتخہ خیل میں سکیورٹی فورسز کی اہم تنصیبات پر کثیر الجہتی حملے کے نتیجے میں دفاعی حصار منہدم ہوگیا۔ حملے کی ماسٹر مائنڈ ٹی ٹی پی کمانڈر عبدالعزیز نے کی، جو حقانی نیٹ ورک اور القاعدہ سے بھی منسلک ہیں۔

May 12, 2026

افغانستان میں میڈیا کی آزادی پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ طالبان کی انٹیلی جنس نے طلوع نیوز کے دو اہم صحافیوں اور مقامی ایجنسی کے جاوید نیازی سمیت 8 صحافیوں کو حراست میں لے لیا ہے، جن کی وجوہات تاحال نامعلوم ہیں۔

May 12, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *