"> مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت: ووٹر فہرستوں سے اخراج اور انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات - HTN Urdu مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت: ووٹر فہرستوں سے اخراج اور انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مغربی بنگال میں بی جے پی کی جیت: ووٹر فہرستوں سے اخراج اور انتخابی شفافیت پر سنگین سوالات

انتخابات کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد مرکزی فورسز کی تعیناتی بھی اب ایک بڑا تنازع بن چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی کے غیر معمولی اور سخت انتظامات نے ووٹرز کے اندر خوف و ہراس کی فضا پیدا کی، جس کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ بری طرح متاثر ہوا۔
مغربی بنگال انتخابات

انتخابات سے قبل "اسپیشل انٹینسیو رویژن" کی آڑ میں ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے نام فہرستوں سے حذف کر دیے گئے۔

May 12, 2026

کلکتہ: مغربی بنگال کے حالیہ انتخابی نتائج میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی کامیابی نے بھارت سمیت عالمی سطح پر انتخابی شفافیت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی مبصرین اور اپوزیشن جماعتوں نے ان نتائج پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی عمل کے دوران مخصوص طبقے کو نشانہ بنا کر نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق، انتخابات سے قبل “اسپیشل انٹینسیو رویژن” کی آڑ میں ووٹر فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں تقریباً 90 لاکھ ووٹرز کے نام فہرستوں سے حذف کر دیے گئے۔ سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ حذف کیے گئے زیادہ تر ووٹرز کا تعلق مسلم اور دلت علاقوں سے تھا۔ سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک “غیر اخلاقی کھیل” قرار دیا اور الزام لگایا کہ مسلم ووٹروں کو ایک منظم منصوبے کے تحت انتخابی عمل سے باہر رکھا گیا۔

انتخابات کے دوران ڈھائی لاکھ سے زائد مرکزی فورسز کی تعیناتی بھی اب ایک بڑا تنازع بن چکی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر مسلم اکثریتی علاقوں میں سکیورٹی کے غیر معمولی اور سخت انتظامات نے ووٹرز کے اندر خوف و ہراس کی فضا پیدا کی، جس کے باعث ووٹر ٹرن آؤٹ بری طرح متاثر ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ بی جے پی رہنما سووندو ادھیکاری کے ماضی کے متنازع بیانات بھی دوبارہ زیرِ بحث ہیں، جنہیں اپوزیشن حلقے اقلیتوں کے خلاف سخت سیاسی دشمنی اور تعصب کا عکاس قرار دے رہے ہیں۔

نتائج کے اعلان کے بعد ریاست کے مختلف حصوں سے تشدد، حملوں اور مذہبی کشیدگی کی اطلاعات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مقامات پر مسلم شناخت سے منسوب بورڈز ہٹانے اور ان کی جگہ ہندوانہ علامات لگانے کے واقعات بھی پیش آئے ہیں، جس سے سماجی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ ان حالات نے نہ صرف مغربی بنگال کے سیاسی مستقبل بلکہ بھارت میں جمہوری اقدار اور انتخابی اداروں کی غیر جانبداری پر بھی بڑے سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

دیکھئیے:بھارت کو مئی 2025 میں عبرتناک شکست ہوئی، امریکہ کے ذریعے جنگ بندی کی منتیں کیں: جی ایچ کیو میں فیلڈ مارشل کا خطاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *