نئی دہلی: بھارت کی جانب سے کھیلوں کے میدان میں سیاست اور ویزا کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا غیر پیشہ ورانہ رویہ ایک بار پھر عالمی سطح پر شرمندگی کا باعث بن گیا ہے۔ برطانوی اسپنر شعیب بشیر، جنہیں ان کے پاکستانی پس منظر کی وجہ سے بھارت نے ویزا دینے میں غیر معمولی تاخیر اور رکاوٹوں کا نشانہ بنایا تھا، انہوں نے میدانِ عمل میں اپنی شاندار کارکردگی سے بھارت کو کرارا جواب دے دیا ہے۔
بھارت خود کو “سیکولر جمہوریت” قرار دینے کا دعویٰ تو کرتا ہے، لیکن پاکستانی نژاد غیر ملکی کھلاڑیوں، صحافیوں اور شہریوں کے خلاف اس کا رویہ گہرے تعصب اور نفرت کا عکاس ہے۔ شعیب بشیر کا کیس اس امتیازی سلوک کی تازہ ترین مثال ہے؛ وہ انگلینڈ کی ٹیم کے آخری کھلاڑی تھے جنہیں ویزا جاری کیا گیا۔ تاہم، قدرت کا انتقام دیکھیے کہ بشیر نے ٹوٹی ہوئی انگلی کے ساتھ کھیل جاری رکھا اور بھارت کے خلاف آخری وکٹ حاصل کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلوا کر بھارتی غرور کو خاک میں ملا دیا۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے؛ اس سے قبل بھی انگلینڈ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے متعدد کھلاڑیوں اور صحافیوں کو صرف اس لیے غیر ضروری اسکروٹنی اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی جڑیں پاکستان میں تھیں یا ان کی پہچان بطور مسلمان تھی۔ کھیلوں کا مقصد قوموں کے درمیان دوریاں ختم کرنا ہوتا ہے، لیکن بھارت مسلسل ویزا پالیسی کو ایک سیاسی آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو سراسر نفرت اور شک پر مبنی ہے۔
عالمی برادری اور کھیلوں کی تنظیموں کے لیے یہ صورتحال ایک لمحہ فکریہ ہے کہ کیا کسی ملک کو اپنی سیاسی دشمنی کی بنیاد پر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ اس قدر امتیازی سلوک کی اجازت دی جانی چاہیے؟ شعیب بشیر کی فتح نے ثابت کر دیا ہے کہ میدان میں قابلیت اور ہمت کا مقابلہ ویزا کی سیاست اور تعصب سے نہیں کیا جا سکتا۔
دیکھئیے:ڈھاکا ٹیسٹ: بنگلادیش نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دے دی، قومی ٹیم 163 رنز پر ڈھیر