"> عوامی مینڈیٹ یا خاندانی ہدایات؟ سہیل آفریدی کی اڈیالہ یاترا اور کے پی حکومت کی ترجیحات پر سنگین سوالات - HTN Urdu عوامی مینڈیٹ یا خاندانی ہدایات؟ سہیل آفریدی کی اڈیالہ یاترا اور کے پی حکومت کی ترجیحات پر سنگین سوالات
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عوامی مینڈیٹ یا خاندانی ہدایات؟ سہیل آفریدی کی اڈیالہ یاترا اور کے پی حکومت کی ترجیحات پر سنگین سوالات

سہیل آفریدی اداروں کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں مگر اپنی کارکردگی پر خاموش ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات اور انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ صوبہ پچھلے تیرہ سال سے ایک ہی سیاسی سوچ کے زیرِ اثر ہے مگر نتائج صفر ہیں۔ ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا اب عوامی خدمت نہیں رہا۔ عوام کو احتجاجی کمیٹی نہیں بلکہ ایک فعال اور ذمہ دار حکومت کی ضرورت ہے۔
سہیل آفریدی تنقید کی زد میں

بنوں میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں دو درجن افراد متاثر ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے اس پر کسی عملی روڈ میپ یا ہائی لیول میٹنگ کے بجائے صرف الزام تراشی کی۔

May 12, 2026

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادارے دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں۔ ان کا سارا اصرار بانی پی ٹی آئی کی سہولیات اور ملاقاتوں پر رہا۔ سہیل آفریدی کے مطابق ادارے صرف پی ٹی آئی کو ختم کرنے میں لگے ہیں۔ سب سے حیران کن بات ان کا یہ بیان تھا کہ علیمہ خان جو کہیں گی وہی ہوگا۔

یہ سوال اب زبان زدِ عام ہے کہ کیا صوبے کا امن ایک قیدی کی ملاقات سے کم اہم ہے؟ اگر دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو ہر جواب بانی پی ٹی آئی اور ان کے خاندان تک کیوں محدود ہو جاتا ہے؟ بنوں میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں دو درجن افراد متاثر ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے اس پر کسی عملی روڈ میپ یا ہائی لیول میٹنگ کے بجائے صرف الزام تراشی کی۔ کیا صوبے کی سکیورٹی پالیسی اب منتخب حکومت کے بجائے خاندانی ہدایات پر چلے گی؟

سہیل آفریدی اداروں کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں مگر اپنی کارکردگی پر خاموش ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات اور انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ صوبہ پچھلے تیرہ سال سے ایک ہی سیاسی سوچ کے زیرِ اثر ہے مگر نتائج صفر ہیں۔ ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا اب عوامی خدمت نہیں رہا۔ عوام کو احتجاجی کمیٹی نہیں بلکہ ایک فعال اور ذمہ دار حکومت کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی پر سنجیدگی کا مطلب سڑکوں پر نکلنا یا اڈیالہ یاترا کرنا نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ کو صوبے کی حکمرانی سونپی گئی ہے اور وہ عوام کو جوابدہ ہیں۔ اختیار آپ کے پاس ہے تو ذمہ داری بھی آپ ہی کی بنتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اب سیاسی ڈرامے بازی سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہیں پریس ٹاک یا ٹویٹس نہیں بلکہ امن اور تحفظ کے لیے ٹھوس پالیسی چاہیے۔

دیکھئیے:تبدیلی یا تباہی؟ کے پی میں زکوٰۃ و عشر اور آئل اینڈ گیس فنڈز میں مبینہ کرپشن؛ سہیل آفریدی سے عوامی حساب کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *