وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادارے دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں۔ ان کا سارا اصرار بانی پی ٹی آئی کی سہولیات اور ملاقاتوں پر رہا۔ سہیل آفریدی کے مطابق ادارے صرف پی ٹی آئی کو ختم کرنے میں لگے ہیں۔ سب سے حیران کن بات ان کا یہ بیان تھا کہ علیمہ خان جو کہیں گی وہی ہوگا۔
یہ سوال اب زبان زدِ عام ہے کہ کیا صوبے کا امن ایک قیدی کی ملاقات سے کم اہم ہے؟ اگر دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ ہے تو ہر جواب بانی پی ٹی آئی اور ان کے خاندان تک کیوں محدود ہو جاتا ہے؟ بنوں میں حالیہ دہشت گردی کے واقعے میں دو درجن افراد متاثر ہوئے۔ وزیراعلیٰ نے اس پر کسی عملی روڈ میپ یا ہائی لیول میٹنگ کے بجائے صرف الزام تراشی کی۔ کیا صوبے کی سکیورٹی پالیسی اب منتخب حکومت کے بجائے خاندانی ہدایات پر چلے گی؟
سہیل آفریدی اداروں کی سنجیدگی پر سوال اٹھاتے ہیں مگر اپنی کارکردگی پر خاموش ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پولیس اصلاحات اور انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کا کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا۔ صوبہ پچھلے تیرہ سال سے ایک ہی سیاسی سوچ کے زیرِ اثر ہے مگر نتائج صفر ہیں۔ ہر ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنا اب عوامی خدمت نہیں رہا۔ عوام کو احتجاجی کمیٹی نہیں بلکہ ایک فعال اور ذمہ دار حکومت کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی پر سنجیدگی کا مطلب سڑکوں پر نکلنا یا اڈیالہ یاترا کرنا نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ کو صوبے کی حکمرانی سونپی گئی ہے اور وہ عوام کو جوابدہ ہیں۔ اختیار آپ کے پاس ہے تو ذمہ داری بھی آپ ہی کی بنتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام اب سیاسی ڈرامے بازی سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہیں پریس ٹاک یا ٹویٹس نہیں بلکہ امن اور تحفظ کے لیے ٹھوس پالیسی چاہیے۔