امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے پاکستان کے مصالحتی کردار پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے ایرانی طیاروں کو اپنی حدود میں جگہ دی ہے۔ سینیٹر گراہم کا یہ بیان ان کے مخصوص سیاسی ایجنڈے کا عکاس ہے۔ وہ کسی اور ملک کو ثالث بنانے کی بات کر رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے بارے میں بالکل پریشان نہیں ہیں۔ ان کا اصل مسئلہ پاکستان کی غیر جانبداری اور دیانت داری ہے۔ پاکستان اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ ایک پائیدار امن جس کو ہضم کرنے کی صلاحیت لنڈسے گراہم اور ان کے سپانسرز میں نہیں۔
پاکستان واشنگٹن اور تہران دونوں کے لیے قابلِ اعتماد ثالث ہے۔ مصالحت کی کامیابی کا دارومدار ساکھ اور غیر جانبداری پر ہوتا ہے۔ سینیٹر گراہم جیسے سیاستدانوں کو شاید ایک مخلص ثالث قبول نہیں۔ وہ خطے میں امن کے بجائے مخصوص مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔
پاکستان کسی ایجنڈے کے تحت نہیں بلکہ عالمی استحکام کے لیے کام کر رہا ہے۔ اگر امریکہ کسی اور ملک کو آزمانا چاہتا ہے تو اسے مکمل اختیار ہے۔ تاہم پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست ہے۔ ہم پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے ایک خطرناک تنازع کے حل میں دلچسپی رکھتے ہیں۔