"> سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، خیبر میں فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر عمر عرف غازی ہلاک - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، خیبر میں فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر عمر عرف غازی ہلاک

خیبر میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے کلیدی کمانڈر عمر عرف غازی کو ہلاک کر کے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا۔
خیبر میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے کلیدی کمانڈر عمر عرف غازی کو ہلاک کر کے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑ دیا۔

سکیورٹی فورسز نے خیبر میں بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈر عمر غازی کو ہلاک کر دیا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشنز جاری رکھنے کا عزم۔

May 13, 2026

سکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر میں دہشت گردوں کے خلاف ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے اہم کمانڈر عمر عرف غازی کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ کاروائی علاقے میں دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے لیے جاری سکیورٹی اداروں کی مربوط حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔

آپریشن کی تفصیلات

سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ آپریشن خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر خیبر کے مخصوص علاقے میں کیا گیا۔ کاروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر عمر عرف غازی کو نشانہ بنایا، جو فورسز اور عام شہریوں کے خلاف متعدد کاروائیوں میں ملوث تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ادارے خوارج کے تمام ٹھکانوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ان کے مذموم عزائم کو بروقت خاک میں ملایا جا سکے۔

سرحد پار سے سرپرستی

ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے مسلسل دباؤ کے باعث خوارج کو اپنے محفوظ ٹھکانوں سے پسپائی اختیار کرنا پڑ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان دہشت گرد عناصر کو مبینہ طور پر افغان طالبان کی سرپرستی حاصل ہے، تاہم پاکستانی سکیورٹی ادارے سرحدی اور اندرونی نیٹ ورکس میں ان کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے پوری طرح متحرک ہیں۔ حالیہ کاروائیوں میں خوارج کی قیادت کو مسلسل نشانہ بنانا اسی سخت گیر سیکیورٹی پالیسی کا تسلسل ہے۔

امن و امان کا قیام

حکام نے واضح کیا ہے کہ عام شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جب تک خطے سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا اور پائیدار امن قائم نہیں ہوتا، انسدادِ دہشت گردی کے یہ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *