پاکستان کی کامیاب سفارت کاری اور مشرقِ وسطیٰ سمیت خطے میں قیامِ امن کے لیے کیے جانے والے کلیدی اقدامات کو سبوتاژ کرنے کے لیے اسرائیل اور بھارت نواز حلقوں کی جانب سے چلائی جانے والی ایک منظم عالمی مہم کا انکشاف ہوا ہے۔
حالیہ انکشافات اور رپورٹ کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب دنیا مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن کی جانب مثبت پیش رفت دیکھ رہی ہے، کچھ مخصوص عناصر امن پسند قوتوں کے درمیان شکوک و شبہات کی خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس مہم کا مقصد پاکستان کے بطور عالمی ثالث ابھرتے ہوئے کردار کو متنازع بنا کر امن کے عمل کو پٹری سے اتارنا ہے۔
میڈیا ہتھکنڈے اور من گھڑت الزامات
اس منظم مہم میں امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا کردار نمایاں رہا ہے۔ سی بی ایس نیوز نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا کہ ایرانی طیارے پاکستان کے نور خان ایئربیس پر موجود ہیں۔ حیران کن طور پر اسی روز نیتن یاہو نے ایک انٹرویو میں پاکستان پر بوٹ فارمز کے ذریعے اسرائیل مخالف بیانیہ بنانے کا من گھڑت الزام لگایا۔ اس کے ساتھ ہی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم اور مخصوص صحافتی حلقوں نے بھی پاکستان کی ثالثی پر سوالات اٹھا کر اس بیانیے کو تقویت دینے کی کوشش کی۔
پسِ پردہ اسرائیلی مفادات
تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ ان میڈیا اداروں کے مالکان کے اسرائیل کے ساتھ گہرے دفاعی اور مالی روابط ہیں۔ سی بی ایس کی مالک کمپنی ‘پیراماؤنٹ’ کے اہم شراکت دار ایلیسن خاندان کے اسرائیلی قیادت اور دفاعی افواج کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ اوریکل کے بانی لیری ایلیسن نہ صرف اسرائیلی فوج کے بڑے عطیہ دہندگان میں شامل ہیں بلکہ نیتن یاہو کے ذاتی دوست بھی ہیں، جس سے ان میڈیا ہاؤسز کی جانبداری مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے۔
سفارتی کامیابیوں سے خوفزدہ عناصر
رپورٹ کے مطابق ریاض، اسلام آباد اور انقرہ کے درمیان بڑھتا ہوا اسٹریٹجک تعاون اور کامیاب ثالثی ان عناصر کے لیے پریشانی کا باعث ہے جو خطے میں مستقل انتشار چاہتے ہیں۔ پاکستان نے وہ سفارتی کامیابی حاصل کی جو اقوامِ متحدہ یا سلامتی کونسل بھی نہ کر سکے، جس کی وجہ سے اسرائیل نواز جنگجو گروہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ اسی سلسلے میں رائٹرز جیسی ایجنسیوں کے ذریعے سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کے لیے بھی جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں۔
پاکستان کا دوٹوک مؤقف اور دفاع
ریاستِ پاکستان نے ان تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا مینیپولیشن جیسی سرگرمیوں میں نہ تو یقین رکھتی ہے اور نہ ہی اس پر سرمایہ کاری کرتی ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل، مخصوص امریکی مہروں کے ساتھ مل کر خطے میں عدم استحکام کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اپنے ہیموجینک (تسلط پسندانہ) عزائم کو پورا کر سکیں۔ تاہم، پاکستان کی ہوشمندانہ قیادت اور تزویراتی یکسوئی ان تمام عالمی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح مستعد ہے۔