اقوام متحدہ کی 38ویں رپورٹ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور 2 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 22, 2026

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت 6 ماہ کے لیے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

August 22, 2026

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

اشرافیہ کے لیے “سیف ایگزٹ” اور کارکنوں کے لیے جیل؟ ایم این اے اقبال آفریدی کے بیٹے کی سیاسی پناہ نے نئے سوالات کھڑے کر دیے

عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے “سیف ایگزٹ” کا انتظام کیا جاتا ہے۔
اقبال آفریدی کا بیٹا

ایک عوامی نمائندہ اسمبلی کی مراعات اور پروٹوکول سے بھی چمٹا ہوا ہے اور ساتھ ہی ریاست کے خلاف بیانیہ بھی فروخت کر رہا ہے۔

May 13, 2026

اسلام آباد: قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے صاحبزادے اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ (سرکاری پاسپورٹ) پر بیرونِ ملک سفر کیا اور وہاں پہنچ کر اسائلم کے لیے درخواست دے دی۔ جب صحافیوں نے اس حساس معاملے پر سوالات کیے تو پی ٹی آئی رہنما جواب دینے کے بجائے برہم ہو گئے اور ملک کے حالات کا رونا رونے لگے۔

قومی اسمبلی کے فلور پر اخلاقیات کا درس دینے والے اقبال آفریدی کے اس دوہرے معیار نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف وہ اسی ایوان میں اپنے ہی ساتھی رکن سے ہاتھا پائی کرتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ان کے خاندان پر سرکاری مراعات کا فائدہ اٹھا کر ملک چھوڑنے کے الزامات ہیں۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اقبال آفریدی نے خود بھی سیاسی پناہ میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے کہ “یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا”۔

سیاسی مبصرین اس عمل کو کھلی منافقت قرار دے رہے ہیں کہ ایک عوامی نمائندہ اسمبلی کی مراعات اور پروٹوکول سے بھی چمٹا ہوا ہے اور ساتھ ہی ریاست کے خلاف بیانیہ بھی فروخت کر رہا ہے۔ عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے “سیف ایگزٹ” کا انتظام کیا جاتا ہے۔

قومی نمائندے کی حیثیت سے اقبال آفریدی کو اس معاملے پر شفاف جواب دینا چاہیے تھا کیونکہ سرکاری پاسپورٹ پر پناہ لینا منصب کی توہین تصور کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر خاموشی اور شور شرابہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ جب قیادت ہی ملک کے مستقبل سے مایوس ہو کر پناہ کے راستے تلاش کرے گی تو وہ قوم کو شفافیت اور ترقی کا درس کس بنیاد پر دے گی۔ پی ٹی آئی کی یہ سیاست پاکستان سے فائدہ اٹھانے اور پھر اسی کے خلاف بیانیہ بنانے کی بدترین مثال ہے۔

متعلقہ مضامین

اقوام متحدہ کی 38ویں رپورٹ نے افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور 2 ہزار جنگجوؤں کی موجودگی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

August 22, 2026

وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت 6 ماہ کے لیے فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

August 22, 2026

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *