اسلام آباد: قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے صاحبزادے اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ (سرکاری پاسپورٹ) پر بیرونِ ملک سفر کیا اور وہاں پہنچ کر اسائلم کے لیے درخواست دے دی۔ جب صحافیوں نے اس حساس معاملے پر سوالات کیے تو پی ٹی آئی رہنما جواب دینے کے بجائے برہم ہو گئے اور ملک کے حالات کا رونا رونے لگے۔
قومی اسمبلی کے فلور پر اخلاقیات کا درس دینے والے اقبال آفریدی کے اس دوہرے معیار نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف وہ اسی ایوان میں اپنے ہی ساتھی رکن سے ہاتھا پائی کرتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ان کے خاندان پر سرکاری مراعات کا فائدہ اٹھا کر ملک چھوڑنے کے الزامات ہیں۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اقبال آفریدی نے خود بھی سیاسی پناہ میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے کہ “یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا”۔
سیاسی مبصرین اس عمل کو کھلی منافقت قرار دے رہے ہیں کہ ایک عوامی نمائندہ اسمبلی کی مراعات اور پروٹوکول سے بھی چمٹا ہوا ہے اور ساتھ ہی ریاست کے خلاف بیانیہ بھی فروخت کر رہا ہے۔ عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے “سیف ایگزٹ” کا انتظام کیا جاتا ہے۔
قومی نمائندے کی حیثیت سے اقبال آفریدی کو اس معاملے پر شفاف جواب دینا چاہیے تھا کیونکہ سرکاری پاسپورٹ پر پناہ لینا منصب کی توہین تصور کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر خاموشی اور شور شرابہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ جب قیادت ہی ملک کے مستقبل سے مایوس ہو کر پناہ کے راستے تلاش کرے گی تو وہ قوم کو شفافیت اور ترقی کا درس کس بنیاد پر دے گی۔ پی ٹی آئی کی یہ سیاست پاکستان سے فائدہ اٹھانے اور پھر اسی کے خلاف بیانیہ بنانے کی بدترین مثال ہے۔