انہوں نے ایک امکان کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ جاری موجودہ تعاون کے دائرہ کار میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سفارتی تجویز اور اسٹریٹجک امکان کی گفتگو تھی جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

May 13, 2026

فتنۃ الخوارج اس وقت ملک کے استحکام اور امن کے لیے ایک واضح خطرہ بن چکا ہے جو صرف دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ یہ گروہ نہ تو انسانی زندگی کی قدر کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی نظریے سے سروکار ہے، بلکہ یہ صرف انتشار پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔

May 13, 2026

بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ٹی ٹی پی کے ارکان نے ان علاقوں میں سکونت اختیار کی تھی، مگر ان مبینہ حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی کوئی باقاعدہ رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے متاثرہ مقامات کی ناکہ بندی کی بھی اطلاعات ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

May 13, 2026

عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے “سیف ایگزٹ” کا انتظام کیا جاتا ہے۔

May 13, 2026

اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ مولانا محمد ادریس شہید سمیت تمام سابقہ شہداء، بالخصوص مولانا سمیع الحق شہید اور مولانا حامد الحق شہید کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور حقائق کو منظرِ عام پر لایا جائے۔

May 13, 2026

اشرافیہ کے لیے “سیف ایگزٹ” اور کارکنوں کے لیے جیل؟ ایم این اے اقبال آفریدی کے بیٹے کی سیاسی پناہ نے نئے سوالات کھڑے کر دیے

عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے “سیف ایگزٹ” کا انتظام کیا جاتا ہے۔
اقبال آفریدی کا بیٹا

ایک عوامی نمائندہ اسمبلی کی مراعات اور پروٹوکول سے بھی چمٹا ہوا ہے اور ساتھ ہی ریاست کے خلاف بیانیہ بھی فروخت کر رہا ہے۔

May 13, 2026

اسلام آباد: قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی اقبال آفریدی کے صاحبزادے اٹلی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اقبال آفریدی کے بیٹے نے بلیو پاسپورٹ (سرکاری پاسپورٹ) پر بیرونِ ملک سفر کیا اور وہاں پہنچ کر اسائلم کے لیے درخواست دے دی۔ جب صحافیوں نے اس حساس معاملے پر سوالات کیے تو پی ٹی آئی رہنما جواب دینے کے بجائے برہم ہو گئے اور ملک کے حالات کا رونا رونے لگے۔

قومی اسمبلی کے فلور پر اخلاقیات کا درس دینے والے اقبال آفریدی کے اس دوہرے معیار نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف وہ اسی ایوان میں اپنے ہی ساتھی رکن سے ہاتھا پائی کرتے نظر آتے ہیں اور دوسری طرف ان کے خاندان پر سرکاری مراعات کا فائدہ اٹھا کر ملک چھوڑنے کے الزامات ہیں۔ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اقبال آفریدی نے خود بھی سیاسی پناہ میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے کہ “یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا”۔

سیاسی مبصرین اس عمل کو کھلی منافقت قرار دے رہے ہیں کہ ایک عوامی نمائندہ اسمبلی کی مراعات اور پروٹوکول سے بھی چمٹا ہوا ہے اور ساتھ ہی ریاست کے خلاف بیانیہ بھی فروخت کر رہا ہے۔ عوام کے بچوں کو احتجاج اور جیلوں کے راستے دکھانے والی قیادت اپنے بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ اور بیرونِ ملک محفوظ مستقبل تلاش کر رہی ہے۔ یہ وہی اشرافیہ سیاست ہے جہاں کارکنوں کے لیے انقلاب اور لیڈروں کے خاندانوں کے لیے “سیف ایگزٹ” کا انتظام کیا جاتا ہے۔

قومی نمائندے کی حیثیت سے اقبال آفریدی کو اس معاملے پر شفاف جواب دینا چاہیے تھا کیونکہ سرکاری پاسپورٹ پر پناہ لینا منصب کی توہین تصور کیا جاتا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر خاموشی اور شور شرابہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ جب قیادت ہی ملک کے مستقبل سے مایوس ہو کر پناہ کے راستے تلاش کرے گی تو وہ قوم کو شفافیت اور ترقی کا درس کس بنیاد پر دے گی۔ پی ٹی آئی کی یہ سیاست پاکستان سے فائدہ اٹھانے اور پھر اسی کے خلاف بیانیہ بنانے کی بدترین مثال ہے۔

متعلقہ مضامین

انہوں نے ایک امکان کے طور پر یہ بات کہی تھی کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ جاری موجودہ تعاون کے دائرہ کار میں ترکی اور قطر جیسے ممالک کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک سفارتی تجویز اور اسٹریٹجک امکان کی گفتگو تھی جسے غلط رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔

May 13, 2026

فتنۃ الخوارج اس وقت ملک کے استحکام اور امن کے لیے ایک واضح خطرہ بن چکا ہے جو صرف دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے ۔ یہ گروہ نہ تو انسانی زندگی کی قدر کرتا ہے اور نہ ہی اسے کسی نظریے سے سروکار ہے، بلکہ یہ صرف انتشار پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔

May 13, 2026

بتایا جا رہا ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں ٹی ٹی پی کے ارکان نے ان علاقوں میں سکونت اختیار کی تھی، مگر ان مبینہ حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کی کوئی باقاعدہ رپورٹ اب تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے متاثرہ مقامات کی ناکہ بندی کی بھی اطلاعات ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

May 13, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *