سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے گزشتہ 31 روز کے دوران بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کئی خواتین سمیت 700 بے گناہ کشمیریوں کو گرفتار کر لیا ہے. کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ گرفتاریاں نام نہاد انسدادِ منشیات مہم کی آڑ میں کی جا رہی ہیں، جس کا اصل مقصد آزادی پسند کشمیریوں کو دہشت زدہ کرنا اور انہیں ان کی املاک و وطن سے محروم کر کے مفلوک الحال بنانا ہے. انتظامیہ اس مہم کے بہانے اب تک کشمیریوں کی بیسیوں املاک ضبط اور منہدم کر چکی ہے۔
وادی میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کے دوران ضلع پونچھ کے علاقے کرشنا گھاٹی میں کنٹرول لائن کے قریب ایک نوجوان کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا. اسی طرح ضلع کشتواڑ میں تلاشی کی کارروائی کے دوران ایک استاد، مشکور احمد کو کالے قانون “یو اے پی اے” کے تحت گرفتار کیا گیا. پولیس نے ان پر آزادی پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے تاکہ اس غیر قانونی گرفتاری کو جواز فراہم کیا جا سکے۔
مقبوضہ علاقے میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور پری پیڈ میٹر نظام کے خلاف بھی شدید احتجاج دیکھنے میں آیا. “مشن سٹیٹ ہڈ جموں کشمیر” کے کارکنوں نے جموں میں مظاہرہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ بھارتی حکومت کشمیری منصوبوں کی بجلی بھارتی ریاستوں کو فراہم کر کے مقامی آبادی کو اندھیروں میں رکھ رہی ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے. اس کے علاوہ “آل ڈیلی ویجرز جموں و کشمیر سنگھرش سمیتی” کے اراکین نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں جموں پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔
حریت رہنماؤں اور تنظیموں نے اپنے بیانات میں بھارت کی جانب سے کشمیری قیادت کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے. انہوں نے واضح کیا کہ حریت رہنماؤں اور کارکنوں کو من گھڑت الزامات کے تحت جیلوں میں بند کیا گیا ہے تاکہ کشمیریوں کی آواز کو دبایا جا سکے. حریت قیادت نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کے ان ظالمانہ اقدامات کا فوری نوٹس لیں اور تمام سیاسی نظر بندوں کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔