"> متحدہ عرب امارات ایران مخالف کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھا: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا برکس اجلاس میں انکشاف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

متحدہ عرب امارات ایران مخالف کارروائیوں میں براہِ راست ملوث تھا: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا برکس اجلاس میں انکشاف

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی جبر کے خلاف ہماری مزاحمت کوئی نئی جنگ نہیں ہے بلکہ دنیا کی اکثر قومیں طویل عرصے سے اس جبر کا مختلف شکلوں میں سامنا کرتی آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زوال پذیر سلطنتیں اپنے حتمی انجام کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں، اس لیے تمام ممالک کو اب متحد ہو کر اس خطرناک چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا۔
عباس عراقچی برکس

عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں امریکہ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب امریکی غنڈہ گردی کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔

May 14, 2026

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اسے ایران مخالف کارروائیوں میں براہِ راست ملوث قرار دے دیا ہے۔ برکس کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے صرف مسلم یکجہتی اور علاقائی مصلحت کی خاطر اب تک متحدہ عرب امارات کا نام لینے سے گریز کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایران پر حملے شروع ہوئے تو یو اے ای نے ان کی مذمت تک نہیں کی، لہذا اب وقت آ گیا ہے کہ امارات ایران سے متعلق اپنی پالیسیوں پر فوری نظرِ ثانی کرے۔

عباس عراقچی نے اپنے خطاب میں امریکہ کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اب وقت آ گیا ہے جب امریکی غنڈہ گردی کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی جبر کے خلاف ہماری مزاحمت کوئی نئی جنگ نہیں ہے بلکہ دنیا کی اکثر قومیں طویل عرصے سے اس جبر کا مختلف شکلوں میں سامنا کرتی آ رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زوال پذیر سلطنتیں اپنے حتمی انجام کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں، اس لیے تمام ممالک کو اب متحد ہو کر اس خطرناک چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا یہ سخت بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا تھا۔ اسرائیلی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا انتہائی خفیہ دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے اماراتی صدر سے ملاقات کی تھی۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے اس اسرائیلی دعوے کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم اس سفارتی ہلچل نے خطے میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق برکس کے پلیٹ فارم سے ایران کا یہ سخت موقف ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے تعلقات ایک بار پھر شدید سرد مہری کا شکار ہو رہے ہیں۔ عباس عراقچی نے زور دیا کہ غنڈہ گردی کے خلاف اب تمام ممالک پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں اور اس مشترکہ چیلنج کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ ایران کی جانب سے یو اے ای کو دی جانے والی یہ کھلی وارننگ آنے والے دنوں میں مشرقِ وسطیٰ کی جیو پولیٹکس میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

دیکھئیے:پاکستان کا عالمی فورم پر دو ٹوک موقف: القدس دارالحکومت اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *