کابل: طالبان حکومت کے وزیرِ برائے مہاجرین خلیل الرحمن حقانی کی جانب سے قاری سعید خوستی کے ماضی کے اخلاقی اسکینڈلز پر سخت ترین ردِعمل سامنے آیا ہے جس نے حقانی نیٹ ورک کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خلیل الرحمن حقانی نے اپنے قریبی ساتھیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ سعید خوستی نے “الٰہیہ” نامی لڑکی کے ساتھ جو بستر گرم کیا اور بعد میں بدنامی سے بچنے کے لیے زبردستی نکاح رچایا، اس رسوائی نے حقانی خاندان، ان کی اپنی اور سراج الدین حقانی کی ناک کاٹ کر رکھ دی ہے۔
حاجی خلیل حقانی نے شدید ذہنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم نے جنگ کے دوران اتنے شہداء کی قربانیاں دیں لیکن ان لرزہ خیز واقعات نے بھی ہمیں اتنا مایوس اور پریشان نہیں کیا جتنا سعید خوستی کی بے شرمی اور شہوت پرستی کے کارناموں نے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اخلاقی اسکینڈل کی وجہ سے حقانی خاندان طویل عرصے تک اپنے شریکوں، قوم اور بالخصوص قندھار کے حریف طالبان رہنماؤں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا اور انہیں شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
د مهاجرینو چارو وزیر خلیل الرحمن حقاني په کراتو خپلو ملګرو ته ویلي وو چې دغه مصلې “ سعید خوستي” د الهې نامې جینکې سره لومړئ “ زنا بل جبر “ بیا د بدنامې نه بچ کیدلو لپاره “ نکاح بل جبر “ رسواېې د حقاني کورنۍ، زما او سراج حقاني پزه را پری او نیمه ګیره را وخریله .
— Sami Yousafzai سمیع یوسفزي (@SamiYousafzaii) May 14, 2026
حاجې خلیل… pic.twitter.com/Nnwl7oiHRT
دوسری جانب، سعید خوستی کی اصل شناخت اور خاندانی پسِ منظر کے حوالے سے بھی نئے تنازعات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان کے ایک مبینہ پڑوسی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعید خوستی کا خوست کے کسی معزز قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ بنیادی طور پر ڈیرہ اسماعیل خان کے “مصلّی” (پسماندہ طبقہ) ہیں۔ پڑوسی کے مطابق سعید خوستی کے والد ماضی میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک شادی شدہ خاتون کو بھگا کر نور محمد ترکئی کے دورِ حکومت میں خوست آئے تھے اور یہیں آباد ہو گئے تھے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے کے دوبارہ سر اٹھانے پر سعید خوستی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی اخلاقی رسوائیوں کے باوجود وہ اب بھی عوامی سطح پر دندناتے پھرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق حقانی گروپ اور قندھار گروپ کے درمیان جاری اقتدار کی جنگ کے دوران اس طرح کے پرانے کیسز کا دوبارہ سامنے آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ طالبان حکومت اندرونی طور پر شدید خلفشار اور دھڑے بندی کا شکار ہے۔