"> طالبان کے اندرونی اختلافات اور شدید غصہ: سعید خوستی کے الہام نامی لڑکی کے ساتھ زبردستی نکاح کے اسکینڈل پر خلیل حقانی پھٹ پڑے - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کے اندرونی اختلافات اور شدید غصہ: سعید خوستی کے الہام نامی لڑکی کے ساتھ زبردستی نکاح کے اسکینڈل پر خلیل حقانی پھٹ پڑے

حاجی خلیل حقانی نے شدید ذہنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم نے جنگ کے دوران اتنے شہداء کی قربانیاں دیں لیکن ان لرزہ خیز واقعات نے بھی ہمیں اتنا مایوس اور پریشان نہیں کیا جتنا سعید خوستی کی بے شرمی اور شہوت پرستی کے کارناموں نے کیا ہے۔
حقانی

ان کا کہنا تھا کہ اس اخلاقی اسکینڈل کی وجہ سے حقانی خاندان طویل عرصے تک اپنے شریکوں، قوم اور بالخصوص قندھار کے حریف طالبان رہنماؤں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا اور انہیں شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

May 14, 2026

کابل: طالبان حکومت کے وزیرِ برائے مہاجرین خلیل الرحمن حقانی کی جانب سے قاری سعید خوستی کے ماضی کے اخلاقی اسکینڈلز پر سخت ترین ردِعمل سامنے آیا ہے جس نے حقانی نیٹ ورک کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق خلیل الرحمن حقانی نے اپنے قریبی ساتھیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ سعید خوستی نے “الٰہیہ” نامی لڑکی کے ساتھ جو بستر گرم کیا اور بعد میں بدنامی سے بچنے کے لیے زبردستی نکاح رچایا، اس رسوائی نے حقانی خاندان، ان کی اپنی اور سراج الدین حقانی کی ناک کاٹ کر رکھ دی ہے۔

حاجی خلیل حقانی نے شدید ذہنی پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہم نے جنگ کے دوران اتنے شہداء کی قربانیاں دیں لیکن ان لرزہ خیز واقعات نے بھی ہمیں اتنا مایوس اور پریشان نہیں کیا جتنا سعید خوستی کی بے شرمی اور شہوت پرستی کے کارناموں نے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اخلاقی اسکینڈل کی وجہ سے حقانی خاندان طویل عرصے تک اپنے شریکوں، قوم اور بالخصوص قندھار کے حریف طالبان رہنماؤں کے سامنے سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا اور انہیں شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب، سعید خوستی کی اصل شناخت اور خاندانی پسِ منظر کے حوالے سے بھی نئے تنازعات کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان کے ایک مبینہ پڑوسی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعید خوستی کا خوست کے کسی معزز قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ بنیادی طور پر ڈیرہ اسماعیل خان کے “مصلّی” (پسماندہ طبقہ) ہیں۔ پڑوسی کے مطابق سعید خوستی کے والد ماضی میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ایک شادی شدہ خاتون کو بھگا کر نور محمد ترکئی کے دورِ حکومت میں خوست آئے تھے اور یہیں آباد ہو گئے تھے۔

سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے کے دوبارہ سر اٹھانے پر سعید خوستی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ اتنی بڑی اخلاقی رسوائیوں کے باوجود وہ اب بھی عوامی سطح پر دندناتے پھرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق حقانی گروپ اور قندھار گروپ کے درمیان جاری اقتدار کی جنگ کے دوران اس طرح کے پرانے کیسز کا دوبارہ سامنے آنا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ طالبان حکومت اندرونی طور پر شدید خلفشار اور دھڑے بندی کا شکار ہے۔

دیکھئیے:بی بی سی کی یکطرفہ رپورٹنگ: کابل میں شہری آبادی کے درمیان اسلحہ ڈپو اور دہشت گرد ٹھکانوں کی موجودگی کو نظر انداز کرنے کا انکشاف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *