کراچی: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ امر خان نے انڈسٹری میں صنفی بنیاد پر جاری امتیازی سلوک اور کاسٹنگ کے معیار پر سخت تنقید کی ہے۔ ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ڈراموں میں 40 اور 50 سال کی عمر کے مرد اداکار “جین زی” یعنی بالکل جوان لڑکوں کے مرکزی کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں، لیکن کوئی بھی اس غیر حقیقی کاسٹنگ پر سوال نہیں اٹھاتا۔
امر خان کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری میں خواتین کے لیے مضبوط اور مرکزی کردار نہیں لکھے جا رہے اور اداکاراؤں کو چند سال کام کرنے کے بعد ہی عمر رسیدہ یا ماؤں کے کرداروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ہالی ووڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں میریل اسٹریپ اور این ہیتھ وے جیسی اداکارائیں اپنی عمر کے ہر حصے میں اسکرین پر اہم ترین کرداروں میں نظر آتی ہیں، مگر ہمارے ہاں اداکاراؤں کی عمر بڑھتے ہی انہیں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ڈرامہ انڈسٹری میں اداکاروں کی عمر اور ان کے کرداروں کے حوالے سے بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی تھی جب سینیئر اداکارہ عتیقہ اوڈھو نے اسٹار اداکار فہد مصطفیٰ کو مشورہ دیا تھا کہ انہیں اب اسکرین پر اپنی ہم عمر ہیروئنز کے ساتھ کاسٹ ہونا چاہیے۔ فہد مصطفیٰ کی جانب سے اس پر ردِعمل سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا اور اب امر خان نے بھی اس کی کھل کر حمایت کی ہے۔
شوبز مبصرین کے مطابق امر خان کا یہ بیان انڈسٹری کے اس تلخ سچ کو آشکار کرتا ہے جہاں مرد اداکاروں کو طویل عرصے تک ہیرو کے روپ میں قبول کیا جاتا ہے جبکہ خواتین کا اسکرین کیریئر عمر کی بنیاد پر جلد سکیڑ دیا جاتا ہے۔ اداکارہ کے اس موقف کو سوشل میڈیا پر مداحوں اور دیگر خواتین فنکاروں کی جانب سے بڑی پذیرائی مل رہی ہے اور کہانیوں میں تبدیلی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
دیکھئیے:ایرانی اداکارہ مندانا کریمی کا 16 سال بعد بھارت چھوڑنے کا اعلان