واشنگٹن: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت تیسرے جائزے اور لچک و پائیداری سہولت کے دوسرے جائزے کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مضبوط پالیسی اقدامات کے تسلسل نے پاکستان کی معاشی بحالی کو نہ صرف سہارا دیا ہے بلکہ معیشت کی بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں مزاحمت کو بھی مضبوط کیا ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کی نمو میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی، کرنٹ اکاؤنٹ متوازن رہا اور اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کی بحالی سابقہ اندازوں اور توقعات سے کہیں بہتر رہی ہے، جو کہ معاشی استحکام کی طرف ایک مثبت اشارہ ہے۔
عالمی ادارے نے رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے اثرات نے پاکستان کے قلیل مدتی معاشی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ پاکستان کی معیشت کے حالات آگے کس سمت جائیں گے، کیونکہ بنیادی منظرنامے کے تحت خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ جنگ عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر پاکستان میں مہنگائی پر دوبارہ دباؤ ڈال سکتی ہے۔
آئی ایم ایف کا مزید کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران پاکستان کی معاشی نمو اور ادائیگیوں کے توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر جنگ کے مجموعی اثرات محدود رہنے کی توقع ہے، تاہم معیشت کو لاحق منفی خطرات بہت زیادہ ہیں جن سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔
دیکھئیے:ملکی زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ؛ مجموعی حجم 21 ارب 33 کروڑ ڈالر سے متجاوز