کابل: افغانستان کی نجات کے لیے قائم سپریم ریزسٹنس کونسل نے ایک نئے اور تفصیلی اعلامیے میں کابل انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خواتین کو تعلیمی، سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں سے دور رکھ کر ملک میں پائیدار ترقی اور استحکام کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ کونسل نے طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد مسلسل پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آدھی آبادی کو دیوار سے لگانے کی یہ پالیسی افغانستان کو ایک گہرے سماجی، ثقافتی اور معاشی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔
کونسل کے بیان کے مطابق لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے بند کرنا اور خواتین کے روزگار پر سخت قدغنیں لگانا نہ صرف بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس وقت افغانستان میں ورکنگ ویمن کو بدترین معاشی مشکلات، ملازمت کے عدم تحفظ اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے افغان خاندانوں اور پورے معاشرے پر شدید ذہنی اور اقتصادی دباؤ بڑھ چکا ہے۔
سپریم ریزسٹنس کونسل نے موجودہ تباہ کن صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار طالبان کو ٹھہراتے ہوئے عالمی برادری، مذہبی سکالرز، ثقافتی اور سول اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقِ تعلیم، آزادی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑیں اور ایک فعال موقف اختیار کریں۔ کونسل کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کی خواتین کی بااختیار حیثیت پر ہوتا ہے اور طالبان کی موجودہ پالیسیاں ملک کو عالمی تنہائی اور مستقل پسماندگی کی طرف لے جا رہی ہیں۔