سری نگر: مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوستانی میڈیا کی جانب سے سرحد پار دراندازی کا ایک ایسا عجیب و غریب اور مضحکہ خیز دعویٰ سامنے آیا ہے جس نے خود ہندوستان کے اپنے سیکیورٹی بیانیے کو مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ انڈین اوپن سورس انٹیلی جنس اکاؤنٹس اور ٹی وی چینلز پر یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے ‘المعشوق’ سے تعلق رکھنے والا “بازی” نامی ایک لبنانی دہشت گرد پاکستان کے راستے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہو چکا ہے، اور وہ لشکرِ طیبہ کے چار رکنی مبینہ گروپ کے ساتھ مل کر پونچھ کے علاقے میں سرگرم ہے۔
علاقائی سیکیورٹی امور کے مبصرین نے اس نئے دعوے کو ‘جولی ووڈ’ کی ایک اور سستی فلمی کہانی قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ سیزنز میں “خفیہ پاکستانی کیمپوں” کے فرضی اسکرپٹ فلاپ ہونے کے بعد، اب ہندوستانی پروپیگنڈا فیکٹریوں نے ریٹنگز کو زندہ رکھنے کے لیے کہانی میں “لبنانی مصالحہ” شامل کر دیا ہے، تاکہ عوام کو یہ باور کرایا جا سکے کہ لبنانی جنگجو پیر پنجال کے کٹھن پہاڑی سلسلوں کو کسی سیاح کی طرح پار کر کے مقبوضہ کشمیر پہنچ رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نیا بیانیہ خود نئی دہلی کے اپنے سرکاری دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ ایک طرف ہندوستان عالمی سطح پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ڈرونز، جدید ترین سینسرز، خاردار باڑ اور بائیومیٹرک اسکینرز پر مشتمل دنیا کا سب سے محفوظ سیکیورٹی نظام نصب ہے جہاں سے پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، لیکن دوسری طرف اپنی ہی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسی بچکانہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں کہ ایک لبنانی شہری دنیا بھر کے ایئرپورٹس اور بارڈرز کو چکمہ دے کر کشمیر کے بیچوں بیچ پہنچ گیا۔ پونچھ میں جیش اور لشکر کے نام پر شروع کیا جانے والا حالیہ ‘سرچ آپریشن’ دراصل اسی جولی ووڈ اسکرپٹ کا حصہ ہے جس کا مقصد زمینی حقائق سے توجہ ہٹانا ہے۔
دیکھئیے:بھارتی آرمی چیف کے پاکستان مخالف اور دھمکی آمیز بیان پر دفاعی حلقوں کا شدید ردِعمل