ملک میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی شرحِ اضافہ سے نمایاں طور پر کم رہی ہے۔ عالمی منڈی میں سب سے بڑا اتار چڑھاؤ مارچ اور اپریل 2026 کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد سپلائی خدشات کے باعث دیکھنے میں آیا تھا۔

May 17, 2026

یہ نیا بیانیہ خود نئی دہلی کے اپنے سرکاری دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ ایک طرف ہندوستان عالمی سطح پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ڈرونز، جدید ترین سینسرز، خاردار باڑ اور بائیومیٹرک اسکینرز پر مشتمل دنیا کا سب سے محفوظ سیکیورٹی نظام نصب ہے جہاں سے پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، لیکن دوسری طرف اپنی ہی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسی بچکانہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں

May 17, 2026

کونسل کے بیان کے مطابق لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے بند کرنا اور خواتین کے روزگار پر سخت قدغنیں لگانا نہ صرف بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

May 17, 2026

گزشتہ دو ماہ سے ان کے خصوصی دستے بدخشاں کے مختلف اضلاع میں پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں اور اس دوران طالبان ملیشیا کے ساتھ متعدد مسلح جھڑپیں اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملے ہوئے ہیں۔

May 17, 2026

طالبان نے اقتدار میں آتے ہی یہاں کے شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی, سیاسی اور سماجی حقوق سے یکسر محروم کر دیا۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر مکمل پابندی نے معاشرے کے آدھے حصے کو گھروں میں قید کر دیا ہے، جس کے خلاف بدخشاں کے باشعور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

May 17, 2026

بلوچستان کی غیور بیٹیاں آج بھی تمام تر خطرات کے باوجود فرنٹ لائن پر کھڑی ہو کر ریاست اور عوام کے تحفظ کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ لیڈی کانسٹیبل شکیلہ بلوچ شہید کی یہ عظیم قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، بلکہ یہ دہشت گردی کے خلاف برسرِپیکار فورسز اور عوام کے عزم کو مزید مضبوط کرے گی۔

May 17, 2026

افغانستان کی بقا خواتین کی فعال شراکت داری میں ہے؛ سپریم ریزسٹنس کونسل نے تباہی کا ذمہ دار طالبان کو قرار دے دیا

کونسل کے بیان کے مطابق لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے بند کرنا اور خواتین کے روزگار پر سخت قدغنیں لگانا نہ صرف بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
خواتیں اور افغانستان

اس وقت افغانستان میں ورکنگ ویمن کو بدترین معاشی مشکلات، ملازمت کے عدم تحفظ اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع کا سامنا ہے

May 17, 2026

کابل: افغانستان کی نجات کے لیے قائم سپریم ریزسٹنس کونسل نے ایک نئے اور تفصیلی اعلامیے میں کابل انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خواتین کو تعلیمی، سماجی اور اقتصادی سرگرمیوں سے دور رکھ کر ملک میں پائیدار ترقی اور استحکام کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ کونسل نے طالبان کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں پر عائد مسلسل پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آدھی آبادی کو دیوار سے لگانے کی یہ پالیسی افغانستان کو ایک گہرے سماجی، ثقافتی اور معاشی بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔

کونسل کے بیان کے مطابق لڑکیوں کے لیے اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے دروازے بند کرنا اور خواتین کے روزگار پر سخت قدغنیں لگانا نہ صرف بنیادی انسانی اور شہری حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ ملک کے مستقبل کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس وقت افغانستان میں ورکنگ ویمن کو بدترین معاشی مشکلات، ملازمت کے عدم تحفظ اور روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے افغان خاندانوں اور پورے معاشرے پر شدید ذہنی اور اقتصادی دباؤ بڑھ چکا ہے۔

سپریم ریزسٹنس کونسل نے موجودہ تباہ کن صورتحال کا براہِ راست ذمہ دار طالبان کو ٹھہراتے ہوئے عالمی برادری، مذہبی سکالرز، ثقافتی اور سول اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقِ تعلیم، آزادی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے خاموشی توڑیں اور ایک فعال موقف اختیار کریں۔ کونسل کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار اس کی خواتین کی بااختیار حیثیت پر ہوتا ہے اور طالبان کی موجودہ پالیسیاں ملک کو عالمی تنہائی اور مستقل پسماندگی کی طرف لے جا رہی ہیں۔

دیکھئیے: بدخشاں میں طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا ‘بہار آپریشنز’ کے آغاز کا اعلان

متعلقہ مضامین

ملک میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی شرحِ اضافہ سے نمایاں طور پر کم رہی ہے۔ عالمی منڈی میں سب سے بڑا اتار چڑھاؤ مارچ اور اپریل 2026 کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد سپلائی خدشات کے باعث دیکھنے میں آیا تھا۔

May 17, 2026

یہ نیا بیانیہ خود نئی دہلی کے اپنے سرکاری دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔ ایک طرف ہندوستان عالمی سطح پر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ڈرونز، جدید ترین سینسرز، خاردار باڑ اور بائیومیٹرک اسکینرز پر مشتمل دنیا کا سب سے محفوظ سیکیورٹی نظام نصب ہے جہاں سے پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا، لیکن دوسری طرف اپنی ہی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ایسی بچکانہ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں

May 17, 2026

گزشتہ دو ماہ سے ان کے خصوصی دستے بدخشاں کے مختلف اضلاع میں پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں اور اس دوران طالبان ملیشیا کے ساتھ متعدد مسلح جھڑپیں اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملے ہوئے ہیں۔

May 17, 2026

طالبان نے اقتدار میں آتے ہی یہاں کے شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی, سیاسی اور سماجی حقوق سے یکسر محروم کر دیا۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر مکمل پابندی نے معاشرے کے آدھے حصے کو گھروں میں قید کر دیا ہے، جس کے خلاف بدخشاں کے باشعور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

May 17, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *