فیض آباد: افغانستان کا شمال مشرقی صوبہ بدخشاں اس وقت ایک تاریخی سیاسی اور سماجی موڑ پر کھڑا ہے۔ کابل میں قائم طالبان کی سخت گیر اور جابرانہ حکومت کے خلاف مقامی آبادی کی بڑھتی ہوئی شدید نفرت اور حالیہ عوامی بیداری نے اس تزویراتی خطے کے سیاسی مستقبل کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ بدخشاں کے عوام اب طالبان کی پسماندہ اور انتہا پسندانہ پالیسیوں سے مکمل طور پر بیزار ہو چکے ہیں اور خطے میں ایک آزاد، خودمختار اور ترقی پسند ریاست کے قیام کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔ جغرافیائی، تزویراتی اور معاشی ماہرین کے مطابق بدخشاں ایک آزاد ملک بننے کی تمام مادی اور قانونی شرائط پوری کرتا ہے۔
وسیع جغرافیہ اور عالمی ممالک سے موازنہ
بدخشاں کا کل رقبہ تقریباً 47,000 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جو اسے رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 70 سے زائد آزاد ممالک سے بڑا بناتا ہے۔ اگر اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ خطہ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک جیسے سوئٹزرلینڈ (41,285 مربع کلومیٹر)، نیدرلینڈز (41,850 مربع کلومیٹر)، ڈنمارک (42,933 مربع کلومیٹر) اور بیلجیم (30,528 مربع کلومیٹر) سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
اس کے علاوہ، عالمی معیشت پر راج کرنے والے خلیجی ممالک جیسے قطر، کویت اور بحرین، اور ایشیا کا سب سے بڑا تجارتی مرکز سنگاپور، بدخشاں کے جغرافیے کے سامنے انتہائی چھوٹے ہیں۔ جب یہ تمام ممالک اپنی فوج، سیاسی نظام، مستحکم معیشت اور عالمی وقار کے ساتھ اقوامِ متحدہ کے معزز رکن بن سکتے ہیں، تو بدخشاں کے پاس ایک آزاد ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرنے کا مکمل سفارتی اور جغرافیائی حق موجود ہے۔
جیو پولیٹیکل اہمیت اور واخان راہداری کا جادو
بدخشاں براعظم ایشیا کے حساس ترین اور اہم ترین جیو پولیٹیکل محل وقوع پر واقع ہے۔ اس کی سرحدیں چین، تاجکستان اور پاکستان جیسے اہم ممالک سے ملتی ہیں۔ اس خطے کا سب سے اہم ترین حصہ “واخان راہداری” ہے، جو اسے چین کی سرحد سے جوڑتا ہے۔
ایک آزاد ریاست کے طور پر بدخشاں وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور چین کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی تعاون کا ایک قدرتی اور بین الاقوامی گیٹ وے بن سکتا ہے۔ یہ تزویراتی پوزیشن اس مجوزہ ریاست کو یہ صلاحیت فراہم کرتی ہے کہ وہ کابل کی محتاجی کے بغیر دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ براہِ راست سفارتی اور اقتصادی تعلقات استوار کر سکے اور خطے میں ایک ناگزیر پوزیشن حاصل کر لے۔
بے پناہ قدرتی وسائل اور معاشی خود کفالت
معاشی طور پر بدخشاں ایک انتہائی امیر خطہ ہے جو ایک آزاد ملک کو چلانے کے لیے کافی ہے۔ یہ سرزمین دنیا بھر میں نیلم اور لاجورد کے قیمتی ترین ذخائر کے لیے مشہور ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سونے، تانبے اور دیگر نایاب معدنیات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔
بدخشاں پانی کے وسائل اور دریاؤں کے لحاظ سے بھی خود کفیل ہے، جو سستی بجلی کی پیداوار اور زراعت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو کابل کی پسماندہ گرفت سے آزاد کر کے جدید خطوط پر تیار کیا جائے، تو بدخشاں چند ہی برسوں میں دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شامل ہو سکتا ہے اور اس کے عوام بیرونی امداد کے بغیر ایک خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔
طالبان کی جابرانہ پالیسیاں اور معاشی پسماندگی
طالبان کی مرکزی حکومت نے بدخشاں کے وسائل کو ہمیشہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا اور بدلے میں اس خطے کو صرف غربت اور پسماندگی دی۔ طالبان کی غیر لچکدار اور انتہا پسندانہ معاشی پالیسیوں نے خطے میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، ہسپتالوں اور کارخانوں کی تعمیر کو مکمل طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
مقامی کسانوں اور تاجروں پر بھاری ٹیکس عائد کیے گئے ہیں، اور متبادل روزگار فراہم کیے بغیر ان کے روایتی ذرائع معاش کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ کابل کی ان معاشی پالیسیوں کا مقصد بدخشاں کے عوام کو مستقل طور پر اپنا محتاج رکھنا ہے، جس نے یہاں کی آبادی کو فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے۔
بنیادی انسانی حقوق کی پامالی اور عوامی بیزاری
بدخشاں کے عوام نسلی، ثقافتی اور فکری لحاظ سے کابل کے انتہا پسندانہ بیانیے سے بالکل مختلف ہیں۔ طالبان نے اقتدار میں آتے ہی یہاں کے شہریوں کو ان کے بنیادی انسانی, سیاسی اور سماجی حقوق سے یکسر محروم کر دیا۔ خواتین کی تعلیم اور روزگار پر مکمل پابندی نے معاشرے کے آدھے حصے کو گھروں میں قید کر دیا ہے، جس کے خلاف بدخشاں کے باشعور عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اظهارِ رائے پر سخت سنسرشپ، نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاریاں اور مقامی روایات کو کچلنے کے اقدامات نے لوگوں کو اس نتیجے پر پہنچا دیا ہے کہ طالبان کے زیرِ اثر رہ کر ان کی نسلوں کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہاں کا بچہ بچہ کابل کے استبداد سے نجات چاہتا ہے۔
آزادی کا مطالبہ اور روشن مستقبل کا عزم
بدخشاں کے غیور اور تعلیم یافتہ عوام اب ایک ایسے آزاد اور خودمختار مستقبل کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جہاں وہ خود اپنے قوانین، جدید نظامِ تعلیم، اور ایک آزاد معیشت کو تشکیل دے سکیں۔ خطے کے سیاسی اور عسکری حلقوں کا ماننا ہے کہ طالبان کی استعماری گرفت سے مکمل آزادی ہی بدخشاں کے عوام کو اس تاریکی سے نکال سکتی ہے۔
دنیا کی کئی ایسی قومیں جو آج اقوامِ متحدہ میں اپنی خود مختار حیثیت رکھتی ہیں، رقبے اور وسائل میں بدخشاں سے کہیں پیچھے تھیں۔ بدخشاں کے پاس وہ سب کچھ ہے جو ایک کامیاب ملک کے لیے ضروری ہے، اور یہاں کے عوام اب اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے اور ایک آزاد ریاست قائم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔
دیکھئیے:طالبان کا معروف شیعہ عالم پر وحشیانہ تشدد، اقلیتوں کے خلاف منظم مذہبی جبر تیز