"> بدخشاں میں طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا 'بہار آپریشنز' کے آغاز کا اعلان - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بدخشاں میں طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا ‘بہار آپریشنز’ کے آغاز کا اعلان

گزشتہ دو ماہ سے ان کے خصوصی دستے بدخشاں کے مختلف اضلاع میں پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں اور اس دوران طالبان ملیشیا کے ساتھ متعدد مسلح جھڑپیں اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملے ہوئے ہیں۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ

بدخشاں میں ان کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی نے کابل انتظامیہ کے ملک گیر امن و امان اور سیکیورٹی کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔

May 17, 2026

فیض آباد: افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مابین مسلح تصادم میں اچانک شدید تیزی آ گئی ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان نے باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صوبے میں طالبان کے خلاف اپنے گوریلا دستوں اور کمانڈو یونٹس کے منظم ‘بہار آپریشنز’ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

مزاحمتی فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے ان کے خصوصی دستے بدخشاں کے مختلف اضلاع میں پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں اور اس دوران طالبان ملیشیا کے ساتھ متعدد مسلح جھڑپیں اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملے ہوئے ہیں۔ چجس کے نتیجے میں طالبان جنگجو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔

نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں ان کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی نے کابل انتظامیہ کے ملک گیر امن و امان اور سیکیورٹی کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ فرنٹ کے مطابق، اپنی ناکامی چھپانے کے لیے طالبان نیٹ ورکس نے مقامی آبادی پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس میں گھر گھر تلاشی، نقل و حرکت پر سخت پابندیاں اور شک کی بنیاد پر خود اپنے ہی کچھ مقامی ارکان کی گرفتاریاں شامل ہیں۔

اعلامیے کے آخر میں فرنٹ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت، قانون کی بالادستی اور افغان عوام کے حقِ خودارادیت کی بحالی تک اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور افغان عوام کو خبردار کیا کہ وہ طالبان کے زیرِ اثر کسی بھی نام نہاد امن کو تسلیم نہیں کریں گے، کیونکہ آزادی اور انسانی وقار کے بغیر امن محض مستقل غلامی کا دوسرا نام ہے۔

دیکھئیے:طالبان کا معروف شیعہ عالم پر وحشیانہ تشدد، اقلیتوں کے خلاف منظم مذہبی جبر تیز

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *