فیض آباد: افغانستان کے شمالی صوبے بدخشاں میں طالبان اور نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مابین مسلح تصادم میں اچانک شدید تیزی آ گئی ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ آف افغانستان نے باضابطہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے صوبے میں طالبان کے خلاف اپنے گوریلا دستوں اور کمانڈو یونٹس کے منظم ‘بہار آپریشنز’ کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔
مزاحمتی فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے ان کے خصوصی دستے بدخشاں کے مختلف اضلاع میں پوزیشنیں سنبھال چکے ہیں اور اس دوران طالبان ملیشیا کے ساتھ متعدد مسلح جھڑپیں اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملے ہوئے ہیں۔ چجس کے نتیجے میں طالبان جنگجو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھا کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں ان کی بڑھتی ہوئی عسکری موجودگی نے کابل انتظامیہ کے ملک گیر امن و امان اور سیکیورٹی کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ فرنٹ کے مطابق، اپنی ناکامی چھپانے کے لیے طالبان نیٹ ورکس نے مقامی آبادی پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس میں گھر گھر تلاشی، نقل و حرکت پر سخت پابندیاں اور شک کی بنیاد پر خود اپنے ہی کچھ مقامی ارکان کی گرفتاریاں شامل ہیں۔
اعلامیے کے آخر میں فرنٹ نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت، قانون کی بالادستی اور افغان عوام کے حقِ خودارادیت کی بحالی تک اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری اور افغان عوام کو خبردار کیا کہ وہ طالبان کے زیرِ اثر کسی بھی نام نہاد امن کو تسلیم نہیں کریں گے، کیونکہ آزادی اور انسانی وقار کے بغیر امن محض مستقل غلامی کا دوسرا نام ہے۔
دیکھئیے:طالبان کا معروف شیعہ عالم پر وحشیانہ تشدد، اقلیتوں کے خلاف منظم مذہبی جبر تیز