اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کسی بے جواز یا یکطرفہ حکومتی فیصلے کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ براہِ راست عالمی منڈی میں ہونے والے شدید معاشی جھٹکوں کا شاخسانہ ہے۔ فروری 2026 کے وسط سے مئی 2026 کے وسط تک عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 72 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا۔
اس کے برعکس، اسی عرصے کے دوران حکومتِ پاکستان نے پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 59 فیصد اور ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 49 فیصد اضافہ کیا۔ یہ اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ ملک میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی شرحِ اضافہ سے نمایاں طور پر کم رہی ہے۔ عالمی منڈی میں سب سے بڑا اتار چڑھاؤ مارچ اور اپریل 2026 کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد سپلائی خدشات کے باعث دیکھنے میں آیا تھا۔
چونکہ پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے وہ عالمی مارکیٹ کے ان شدید اثرات سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتا۔ تاہم، حکومت نے عالمی قیمتوں کے مکمل اثرات عوام پر منتقل کرنے کے بجائے اس مالی بوجھ کا ایک بڑا حصہ خود برداشت کیا۔ لہٰذا یہ تاثر دینا کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ بغیر کسی ٹھوس وجہ کے کیا گیا، حقائق کے یکسر منافی اور عالمی معاشی صورتحال سے لاعلمی پر مبنی ہے۔