میڈرڈ: غزہ پر اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف یورپی ممالک میں سفارتی اور ثقافتی سطح پر احتجاج شدید ہو گیا ہے۔ ایک تاریخی اور غیر معمولی فیصلے میں اسپین نے یورپ کے سب سے بڑے اور مقبول سالانہ مقابلہ موسیقی ‘یورو ویژن 2026’ میں اسرائیل کی شرکت کے خلاف مقابلے کا مکمل بائیکاٹ کر دیا ہے اور ایونٹ کی لائیو نشریات روک دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سال 1961 کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ اسپین نے اس مباثہ عکاس مقابلے کو نشر کرنے کے بجائے اپنے ٹی وی پر متبادل پروگرام پیش کیے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جیسے ہی یورو ویژن کا فائنل شروع ہوا، اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے مقابلے کی لائیو فیڈ کاٹنے کے بعد اسکرین پر فلسطین کے حق میں ایک مضبوط اور باضابطہ بیان نشر کر دیا۔
اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے نے اپنے اس فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اثر انگیز بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا:
“یورو ویژن محض ایک مقابلہ ہے، لیکن انسانی حقوق کوئی کھیل نہیں۔ اس وقت دنیا میں جس قسم کی بربریت ہو رہی ہے، اس پر بے حسی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ہم فلسطین کے لیے فوری امن اور انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔”
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کی شرکت پر احتجاج کا یہ سلسلہ صرف اسپین تک محدود نہیں رہا۔ اس احتجاجی لہر میں یورپ کے دیگر ممالک بھی پیش پیش رہے، جہاں آئرلینڈ، نیدرلینڈز، سلووینیا اور آئس لینڈ نے بھی اسرائیل کی شمولیت کے خلاف یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس بائیکاٹ مہم میں شمولیت اختیار کی۔ یورپی ٹی وی چینلز اور عوام کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس سفارتی اور ثقافتی قدم کو اسرائیل کی بڑھتی ہوئی عالمی اور یورپی تنہائی کا ایک واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔