"> شبر زیدی کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور پاکستانی بینکاری نظام پر سنگین حملے؛ بغیر ثبوت ایف اے ٹی ایف سے تسلیم شدہ بینکنگ نظام پر سوالات اٹھانا مضحکہ خیز - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

شبر زیدی کے غیر ذمہ دارانہ بیانات اور پاکستانی بینکاری نظام پر سنگین حملے؛ بغیر ثبوت ایف اے ٹی ایف سے تسلیم شدہ بینکنگ نظام پر سوالات اٹھانا مضحکہ خیز

جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے معتبر عالمی ادارے نے خود پاکستان کے بینکاری تحفظات، قواعد و ضوابط اور مالیاتی ڈھانچے کی تعمیل کا باضابطہ اعتراف کیا ہے، تو ایسے میں شبر زیدی کا ملکی نظام پر سوال اٹھانا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جائزوں کی نفی اور ان کے ذاتی بغض کا عکاس ہے۔
شبر زیدی

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت نگرانی اور اینٹی منی لانڈرنگ جیسے عالمی قوانین کے تحت چلنے والے بینکنگ نظام کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے ایسے بے بنیاد الزامات لگانا کوئی دانشورانہ تجزیہ نہیں

May 17, 2026

کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سابق چیئرمین شبر زیدی کی جانب سے پاکستان کے بینکاری نظام کو نشانہ بنانے کے حالیہ بیانات نے سیکیورٹی، معاشی اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ مالیاتی ماہرین اور مبصرین نے ان کے بیانات کو انتہائی مایوس کن، منفی اور قومی اداروں کو جان بوجھ کر بدنام کرنے کی ایک سنگین کوشش قرار دیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، جب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس جیسے معتبر عالمی ادارے نے خود پاکستان کے بینکاری تحفظات، قواعد و ضوابط اور مالیاتی ڈھانچے کی تعمیل کا باضابطہ اعتراف کیا ہے، تو ایسے میں شبر زیدی کا ملکی نظام پر سوال اٹھانا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ جائزوں کی نفی اور ان کے ذاتی بغض کا عکاس ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت نگرانی اور اینٹی منی لانڈرنگ جیسے عالمی قوانین کے تحت چلنے والے بینکنگ نظام کے خلاف بغیر کسی ثبوت کے ایسے بے بنیاد الزامات لگانا کوئی دانشورانہ تجزیہ نہیں، بلکہ ملکی اداروں پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کی ایک غیر ذمہ دارانہ کوشش ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ انفرادی غلطیوں کی نشاندہی کرنے اور پورے قومی مالیاتی نظام کو مجرمانہ قرار دینے میں ایک واضح فرق ہوتا ہے۔ سنجیدہ اصلاحات کے حامی اس فرق کو سمجھتے ہیں، مگر سرخیوں اور سستی شہرت کے طالب عناصر اسے جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اگر شبر زیدی کے پاس کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کے ٹھوس شواہد موجود ہیں، تو ملک میں قانونی اور تحقیقاتی فورمز موجود ہیں، لیکن ان فورمز سے رجوع کرنے کے بجائے عوامی سطح پر اداروں کی تذلیل کرنا ان کے مقاصد اور نیت پر گہرے سوالات کھڑے کرتا ہے۔

پاکستان کا بینکاری نظام عالمی جانچ پڑتال، تعمیل کے جائزوں اور فیٹف کے کڑے امتحانات سے سرخرو ہو کر گزرا ہے۔ آج ان بیانات سے نظام کی کمزوری نہیں، بلکہ قومی اداروں کو بلاوجہ نشانہ بنانے والے خود ساختہ دانشوروں کا کھوکھلا پن بے نقاب ہو چکا ہے۔ پاکستان کا اصل المیہ صرف بیرونی پروپیگنڈا نہیں، بلکہ شبر زیدی جیسے چند اندرونی کردار ہیں جو اصلاحات کا لبادہ اوڑھ کر ملک دشمن بیانیے کو جلا بخشتے ہیں۔

دیکھئیے:عوامی سطح پر صدارتی اعزاز یافتہ ڈاکٹر انعم فاطمہ کو زبردست خراجِ تحسین، منفی پراپیگنڈا مسترد

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *