کوئٹہ: کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے کوئٹہ تفتان این فورٹی ہائی وے پر “مکمل کنٹرول” کا مضحکہ خیز دعویٰ اور سیندک و ریکوڈک منصوبوں سمیت تمام مال بردار ٹرکوں اور تجارتی قافلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دراصل حقوق کے نام پر عام بلوچ کے معاشی قتل کی ایک اور گہری سازش ہے۔ علاقائی مبصرین اور مقامی رہنماؤں کے مطابق، بی ایل اے کی یہ گیدڑ بھبکیاں براہِ راست بلوچ عوام کے حقِ روزگار، حقِ آزادانہ نقل و حرکت، اور حقِ تجارت و معاشی سرگرمی پر بدترین حملہ ہیں، جس نے ان تخریب کاروں کے حقوق کے محافظ ہونے کے جھوٹے دعووں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
حقائق کے مطابق، کوئٹہ تفتان ہائی وے جیسی بین الاقوامی اور اسٹریٹجک شاہراہ پر دہشت گردوں کے مستقل یا عارضی کنٹرول کا بیانیہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ یہ بزدل عناصر ریاست کے سامنے کھڑے ہونے کی کوئی طاقت نہیں رکھتے اور صرف ہٹ اینڈ رن کے بزدلانہ حملوں یا عارضی ناکہ بندی کی ناکام کوششوں کے ذریعے اپنی جھوٹی موجودگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ ایک قومی شاہراہ ہے جو ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے اور اس پر کسی بھی دہشت گرد گروہ کی اجازت یا لسانی اجارہ داری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
دفاعی اور معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے لاکھوں جوانوں، مزدوروں، ٹرک ڈرائیوروں، اور ٹھیکیداروں کا چولہا اسی شاہراہ سے چلتا ہے، جہاں سے مقامی بلوچ تاجر پھل اور میوہ جات دوسرے صوبوں میں لے جاتے ہیں اور وہاں سے گندم، اناج اور دیگر ضروری اشیاء واپس لاتے ہیں۔ شاہراہ کے اطراف قائم سینکڑوں ہوٹل، ورکشاپس اور پٹرول پمپس بھی مقامی بلوچوں کے ہیں، جن کا کاروبار اس روڈ بلاک کے پروپیگنڈے سے ٹھپ ہو سکتا ہے۔ بھوک کے مارے معاشرے میں سڑک بند کرنا بغیر گولی کے قتلِ عام کے مترادف ہے، اور لاکھوں انسانوں کو معاشی طور پر مفلوج کرنا خودکشی پر مجبور کرنے کے برابر ہے۔
دہشت گرد تنظیمیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ اگر بلوچستان تجارت، معدنیات، سی پیک ، جدید بندرگاہوں اور علاقائی رابطوں کا مرکز بن گیا، تو ان کا تیار کردہ “محرومی اور حقوق” کا جھوٹا بیانیہ ہمیشہ کے لیے دم توڑ جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شرپسند عناصر کبھی مزدوروں، کبھی اساتذہ، کبھی انجینئرز کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں اور کبھی ٹرانسپورٹرز کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ عام بلوچ اب اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہے کہ ان کا اصل متاثرین بی ایل اے ہی ہے، جو صوبے کے انفراسٹرکچر کو تباہ کر کے پسماندگی کو برقرار رکھنا چاہتی ہے، اس لیے عام اور قانون پسند بلوچ کو ان دہشت گردوں سے جوڑنا یکسر غلط ہے۔
پاکستان کی سیکیورٹی فورسز شاہراہ پر ٹریفک کی محفوظ اور بلا تعطل روانی کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح متحرک اور تعینات ہیں، اور ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والی انڈین پراکسیز کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ وفاق اور صوبائی حکومت کا موقف واضح ہے کہ بلوچستان کے وسائل پر پہلا حق وہاں کے مقامی لوگوں کا ہے، اور روڈ ٹیررازم یا معاشی سبوتاژ کے ذریعے عام شہریوں کے روزگار کو متاثر کرنے والے شرپسند عناصر کو قانون کے آہنی ہاتھوں کا سامنا کرنا ہوگا۔