"> کوئٹہ تفتان ہائی وے پر ریاست کی مکمل رٹ بحال؛ دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی دھمکیاں اور سستی پراپیگنڈا مہم بری طرح ناکام - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کوئٹہ تفتان ہائی وے پر ریاست کی مکمل رٹ بحال؛ دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کی دھمکیاں اور سستی پراپیگنڈا مہم بری طرح ناکام

پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہ پر مکمل طور پر متحرک ہیں اور تمام تر جائز ٹریفک، مسافروں اور تجارتی قافلوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ریاستِ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ملکی انفراسٹرکچر یا عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،
کوئٹہ تفتان ہائی وے

بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے دہشت گرد گروہوں کا یہ اقدام سراسر "روڈ ٹیررازم" ہے جس کا مقصد صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا اور عام شہریوں کو یرغمال بنانا ہے۔

May 17, 2026

کوئٹہ: بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے کوئٹہ تفتان ہائی وے پر ٹرانسپورٹرز، مال بردار ٹرکوں اور معدنیات لے جانے والے قافلوں کو نشانہ بنانے کی حالیہ دھمکیاں دراصل ان دہشت گردوں کے مجرمانہ چہرے اور بلوچستان کی معیشت کو مفلوج کرنے کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرتی ہیں۔ سیکیورٹی مبصرین اور معاشی ماہرین نے ان دھمکیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئٹہ تفتان شاہراہ پاکستان کا ایک اہم ترین قومی اور عوامی تجارتی روٹ ہے، جو صرف اور صرف اس ملک کے شہریوں کی ملکیت ہے، اور کسی بھی کالعدم یا دہشت گرد گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ملکی حدود میں عوامی نقل و حرکت کو روکنے کی کوشش کرے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے دہشت گرد گروہوں کا یہ اقدام سراسر “روڈ ٹیررازم” ہے جس کا مقصد صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا اور عام شہریوں کو یرغمال بنانا ہے۔ یہ بزدل عناصر ایک طرف بلوچ عوام کے حقوق کے تحفظ کا جھوٹا راگ الاپتے ہیں، لیکن دوسری طرف اپنی ان مجرمانہ سرگرمیوں سے انہی غریب شہریوں، محنت کشوں اور دکانداروں کے روزگار پر لات مار کر ان کے چولہے ٹھنڈے کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے قیمتی وسائل پر پہلا اور بنیادی حق وہاں کے مقامی لوگوں کا ہے، تاکہ وہاں روزگار، صنعت اور خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکیں، مگر یہ تنظیمیں غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے صوبے کو پسماندہ رکھنا چاہتی ہیں۔

پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہ پر مکمل طور پر متحرک ہیں اور تمام تر جائز ٹریفک، مسافروں اور تجارتی قافلوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ریاستِ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ملکی انفراسٹرکچر یا عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، اور امن و امان کو چیلنج کرنے والے ان تخریب کاروں کو سیکیورٹی فورسز آہنی ہاتھوں سے کچل کر دم لیں گی۔

دیکھئیے:واخان اور لاجورد کی سرزمین مسیحا کی منتظر، طالبان سے بیزاری آخری حد تک پہنچ گئی؛ بے پناہ وسائل سے مالا مال بدخشاں سے آزادی کی آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *