کوئٹہ: بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے کوئٹہ تفتان ہائی وے پر ٹرانسپورٹرز، مال بردار ٹرکوں اور معدنیات لے جانے والے قافلوں کو نشانہ بنانے کی حالیہ دھمکیاں دراصل ان دہشت گردوں کے مجرمانہ چہرے اور بلوچستان کی معیشت کو مفلوج کرنے کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرتی ہیں۔ سیکیورٹی مبصرین اور معاشی ماہرین نے ان دھمکیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کوئٹہ تفتان شاہراہ پاکستان کا ایک اہم ترین قومی اور عوامی تجارتی روٹ ہے، جو صرف اور صرف اس ملک کے شہریوں کی ملکیت ہے، اور کسی بھی کالعدم یا دہشت گرد گروہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ ملکی حدود میں عوامی نقل و حرکت کو روکنے کی کوشش کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے دہشت گرد گروہوں کا یہ اقدام سراسر “روڈ ٹیررازم” ہے جس کا مقصد صوبے میں جاری ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا اور عام شہریوں کو یرغمال بنانا ہے۔ یہ بزدل عناصر ایک طرف بلوچ عوام کے حقوق کے تحفظ کا جھوٹا راگ الاپتے ہیں، لیکن دوسری طرف اپنی ان مجرمانہ سرگرمیوں سے انہی غریب شہریوں، محنت کشوں اور دکانداروں کے روزگار پر لات مار کر ان کے چولہے ٹھنڈے کر رہے ہیں۔ بلوچستان کے قیمتی وسائل پر پہلا اور بنیادی حق وہاں کے مقامی لوگوں کا ہے، تاکہ وہاں روزگار، صنعت اور خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکیں، مگر یہ تنظیمیں غیر ملکی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے صوبے کو پسماندہ رکھنا چاہتی ہیں۔
پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہ پر مکمل طور پر متحرک ہیں اور تمام تر جائز ٹریفک، مسافروں اور تجارتی قافلوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ریاستِ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ملکی انفراسٹرکچر یا عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، اور امن و امان کو چیلنج کرنے والے ان تخریب کاروں کو سیکیورٹی فورسز آہنی ہاتھوں سے کچل کر دم لیں گی۔