ہرات: طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے بعد افغانستان میں پیدا ہونے والے بدترین معاشی اور انسانی بحران نے عام شہریوں کو زندہ رہنے کے لیے اپنے اعضاء بیچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ صوبہ ہرات کے مضافات میں واقع ایک بستی اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے جہاں کے متعدد رہائشیوں نے شدید غربت اور فاقہ کشی سے بچنے کے لیے اپنے گردے فروخت کر دیے ہیں۔ امدادی کارکنوں اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے اس بستی کو باقاعدہ “ایک گردے والا گاؤں” کا نام دیا گیا ہے، جہاں قرضوں کی ادائیگی، خوراک کی خریداری اور طبی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے اعضاء کی فروخت ایک معمول بن چکی ہے۔
مقامی رہائشیوں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ یہ سنگین فیصلے کسی خوشی یا انتخاب کا نتیجہ نہیں بلکہ سراسر انتہائی مایوسی اور بے بسی کا شاخسانہ ہیں۔ کئی والدین نے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے اور گھر سے بے دخلی سے بچنے کے لیے سرجری کا کٹھن راستہ چنا، جبکہ متعدد ایسے گھرانے بھی سامنے آئے ہیں جہاں ایک سے زائد افراد نے اپنے گردے بیچے۔ اگرچہ افغانستان میں انسانی اعضاء کی تجارت قانونی طور پر ممنوع ہے، لیکن ضعیف انتظامی گرفت اور روز بروز بگڑتے ہوئے معاشی حالات کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں یہ خفیہ اور غیر قانونی کاروبار مسلسل جاری ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، اس غیر قانونی تجارت میں اعضاء کا عطیہ دینے والے غریب شہریوں کو ایک گردے کے بدلے محض ۱۵۰۰ ڈالر جیسی معمولی رقم دی جاتی ہے، جبکہ ملک بھر سے مریض ان آپریشنز کے لیے ہرات کا رخ کرتے ہیں۔
ڈاکٹروں اور امدادی کارکنوں نے اس تشویشناک صورتحال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ معاشی تباہی کے بعد ان آپریشنز کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ سرجری کروانے والے زیادہ تر افراد بعد میں دائمی درد، جسمانی کمزوری اور سخت مزدوری کرنے میں مستقل معذوری جیسے سنگین طبی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ اعضاء بیچ کر ملنے والا عارضی مالی سکون ان کی طویل مدتی مشکلات کا حل ثابت نہیں ہو سکا۔