اسلام آباد: مذہبی امور کے ماہرین، مقتدر علمائے کرام اور عوامی حلقوں نے مولانا جمیل اظہر کی جانب سے جاری کردہ حالیہ فتووں پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے شریعت کی کھلی تحریف اور منبر و محراب کی امانت کے ساتھ سنگین خیانت قرار دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مولانا نے اپنے ذاتی اور سیاسی عناد کو تسکین دینے کے لیے اسلام کے بنیادی ارکان اور احکامات کو مسخ کرنے کی انتہائی مذموم کوشش کی ہے۔
دینی اور فقہی ماہرین کے مطابق، مولانا جمیل اظہر کا یہ فتویٰ کہ ‘پاکستانی قوم غلام ہے لہٰذا اس پر حج فرض نہیں’، علمی اور فقہی اعتبار سے سراسر باطل ہے اور امتِ مسلمہ کو رکنِ اسلام سے روکنے کی ایک گہری سازش ہے۔ شریعت اور فقہاء کی اصطلاح میں غلامی سے مراد ‘شرعی و قانونی ملکیت’ ہوتی ہے نہ کہ ملک کے سیاسی یا معاشی حالات۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے کہ جو شخص بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو، اس پر اللہ کے لیے حج کرنا فرض ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بھی اسلام کی بنیاد جن پانچ ستونوں پر رکھی، ان میں حج بیت اللہ کو لازمی جزو قرار دیا ہے۔
مولانا جمیل اظہر کی تکفیری اور خوارجی ذہنیت اس وقت مزید نمایاں ہو گئی جب انہوں نے موجودہ حکومت کے حامی کروڑوں کلمہ گو پاکستانیوں کا موازنہ مسیلمہ کذاب اور مرزا قادیانی کے پیروکاروں سے کر کے انہیں دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد قرار دیا۔ شریعتِ محمدی ﷺ میں سیاسی اختلاف کی بنیاد پر کسی مسلمان کی تکفیر کرنا سخت ترین گناہ ہے۔ قرآن و حدیث میں کسی بھی کلمہ گو کو کافر کہنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اور تاریخ گواہ ہے کہ اسی تکفیری اور انتہا پسندانہ سوچ نے ماضی میں بھی خوارج اور بدترین دہشت گرد گروہوں کو جنم دیا جنہوں نے مسلمانوں کا خون بہایا۔
علمی حلقوں کا کہنا ہے کہ مولانا کا اپنی سیاسی پسند و ناپسند کے لیے منبر کا استعمال کرنا علم اور منصب کی توہین ہے۔ ان کے اس باطل فتوے کا اصل ہدف ریاست کے خلاف نفرت پھیلانا اور شدت پسند گروہوں کے اس پرانے بیانیے کو شرعی جواز فراہم کرنا ہے جس کے تحت پاکستان کو ‘دار الکفر’ قرار دے کر معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ریاست کو غلام اور شہریوں کو مرتد قرار دے کر حج جیسے مقدس فریضے سے روکنا تکفیری ذہنیت اور ریاست دشمنی کی پست ترین مثال ہے، جسے پاکستان کے غیور اور دیندار عوام کسی بھی صورت تسلیم نہیں کریں گے۔