کرم ایجنسی: پاکستان کے قبائلی ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کی ایک کامیاب کارروائی کے دوران افغان طالبان کا اہم کارندہ اور افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع موسیٰ خیل کے پولیس چیف قاری امیر عباس شرافت کا سگی بھانجا حافظ سیف اللہ عرف آصف ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ انتہائی اہم پیش رفت گزشتہ جمعہ ۱۵ مئی کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران سامنے آئی۔
ہلاک ہونے والا دہشت گرد حافظ سیف اللہ عرف آصف، میروائس خان کا بیٹا تھا اور وہ افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع باک کے گاؤں روغہ کا رہائشی تھا۔ وہ بنیادی طور پر افغان طالبان کا فعال رکن تھا، جس نے بعد میں فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) میں شمولیت اختیار کی۔ وہ افغان سرحد عبور کر کے غیر قانونی طور پر خوست سے پاکستان کے ضلع کرم میں داخل ہوا، جہاں وہ کرم میں سرگرم ٹی ٹی پی کے بدنام زمانہ ‘کاظم گروپ’ کا حصہ بن کر متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا۔ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران آصف اپنے دیگر دو ٹی ٹی پی ساتھیوں سمیت اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا۔
Breaking News: Hafiz Saifullah alias Asif, nephew of Qari Amir Abbas Sharafat, the police chief of Musa Khel district in Afghanistan’s Khost province, was killed on May 15 during a security forces operation in Kurram district.
— Mahaz (@MahazOfficial1) May 18, 2026
Saifullah alias Asif, son of Merwais Khan, was a… pic.twitter.com/sfOyBjivQb
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے اعلیٰ ترین ضلعی پولیس چیف کے قریبی رشتہ دار کی پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاکت نے کابل انتظامیہ کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جن میں وہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی میں عدم ملوث ہونے کا راگ الاپتے ہیں۔
یہ واقعہ اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ افغان طالبان کے ارکان نہ صرف ٹی ٹی پی کو افرادی قوت فراہم کر رہے ہیں بلکہ پاکستانی سرحد کے اندر داخل ہو کر سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں براہِ راست حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ملکی خود مختاری اور امن و امان کو چیلنج کرنے والے غیر ملکی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
دیکھئیے:باجوڑ حملہ: خودکش بمبار افغان شہری نکلا، تعلق صوبہ وردک سے ہونے کی تصدیق