"> افغانستان کے پولیس چیف کا بھانجا اور ٹی ٹی پی کا دہشت گرد حافظ سیف اللہ دو ساتھیوں سمیت ہلاک کرم ایجنسی میں ہلاک - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان کے پولیس چیف کا بھانجا اور ٹی ٹی پی کا دہشت گرد حافظ سیف اللہ دو ساتھیوں سمیت ہلاک کرم ایجنسی میں ہلاک

افغان طالبان کے اعلیٰ ترین ضلعی پولیس چیف کے قریبی رشتہ دار کی پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاکت نے کابل انتظامیہ کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
کرم ایجنسی دہشت گرد ہلاک

ہلاک ہونے والا دہشت گرد حافظ سیف اللہ عرف آصف، میروائس خان کا بیٹا تھا اور وہ افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع باک کے گاؤں روغہ کا رہائشی تھا۔

May 18, 2026

کرم ایجنسی: پاکستان کے قبائلی ضلع کرم میں سیکیورٹی فورسز کی ایک کامیاب کارروائی کے دوران افغان طالبان کا اہم کارندہ اور افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع موسیٰ خیل کے پولیس چیف قاری امیر عباس شرافت کا سگی بھانجا حافظ سیف اللہ عرف آصف ہلاک ہو گیا ہے۔ یہ انتہائی اہم پیش رفت گزشتہ جمعہ ۱۵ مئی کو سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کیے جانے والے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران سامنے آئی۔

ہلاک ہونے والا دہشت گرد حافظ سیف اللہ عرف آصف، میروائس خان کا بیٹا تھا اور وہ افغانستان کے صوبہ خوست کے ضلع باک کے گاؤں روغہ کا رہائشی تھا۔ وہ بنیادی طور پر افغان طالبان کا فعال رکن تھا، جس نے بعد میں فتنۃ الخوارج (ٹی ٹی پی) میں شمولیت اختیار کی۔ وہ افغان سرحد عبور کر کے غیر قانونی طور پر خوست سے پاکستان کے ضلع کرم میں داخل ہوا، جہاں وہ کرم میں سرگرم ٹی ٹی پی کے بدنام زمانہ ‘کاظم گروپ’ کا حصہ بن کر متعدد دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہا۔ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران آصف اپنے دیگر دو ٹی ٹی پی ساتھیوں سمیت اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے اعلیٰ ترین ضلعی پولیس چیف کے قریبی رشتہ دار کی پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ہلاکت نے کابل انتظامیہ کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جن میں وہ پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی میں عدم ملوث ہونے کا راگ الاپتے ہیں۔

یہ واقعہ اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ افغان طالبان کے ارکان نہ صرف ٹی ٹی پی کو افرادی قوت فراہم کر رہے ہیں بلکہ پاکستانی سرحد کے اندر داخل ہو کر سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملوں میں براہِ راست حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ ملکی خود مختاری اور امن و امان کو چیلنج کرنے والے غیر ملکی دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی بھی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

دیکھئیے:باجوڑ حملہ: خودکش بمبار افغان شہری نکلا، تعلق صوبہ وردک سے ہونے کی تصدیق

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *