اسلام آباد: سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں رواں سال فروری سے اپریل کے دوران کاروباری سرگرمیوں میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے اور اس عرصے میں 10 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں۔ اعلامیے کے مطابق، ان تین مہینوں میں مجموعی طور پر 10 ہزار 511 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ تعداد 8 ہزار 693 تھی، جو ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا واضح مظہر ہے۔
ایس ای سی پی کے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ صرف اپریل کے مہینے میں 4 ہزار 82 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جن میں دنیا کے 22 سے زائد ممالک کے سرمایہ کاروں نے دلچسپی دکھائی۔
اس عرصے کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کے مجموعی ادا شدہ سرمائے میں 218 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو بڑھ کر 88 کروڑ 20 لاکھ روپے تک پہنچ گیا، جبکہ گزشتہ سال یہ حجم 27کروڑ 70 لاکھ روپے تھا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ کمپنیاں تجارت، خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تعمیرات اور معدنیات کے شعبوں میں رجسٹرڈ کرائی گئیں۔
اعلامیے کے مطابق، کمپنیوں کی ریگولیٹری تعمیل میں بھی 61 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان تین ماہ کے دوران 61 ہزار 960 کمپنیوں نے اپنے سالانہ ریٹرنز جمع کرائے، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 38 ہزار326 تھی۔
ایس ای سی پی نے نان لسٹڈ کمپنیوں کے شیئر سرٹیفکیٹس کو ڈیجیٹلائز کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس سے الیکٹرانک شیئرز کے ذریعے کمپنیوں کے درمیان شیئر ہولڈنگ کے تنازعات کا خاتمہ ممکن ہوگا۔ اس سہولت کو عام کرنے کے لیے اسلام آباد، کراچی، لاہور، سیالکوٹ اور فیصل آباد میں خصوصی مراکز قائم کیے جا رہے ہیں، جبکہ کمپنی رجسٹریشن کے نظام کو مزید خودکار بنانے اور کمپنیوں کے نام محفوظ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی کیا جائے گا۔