"> عالمی بحری بحران کا مقابلہ؛ پاکستان کا افریقہ اور ایشیا کی طرف چاول کی برآمدات کا رخ موڑنے کا فیصلہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

عالمی بحری بحران کا مقابلہ؛ پاکستان کا افریقہ اور ایشیا کی طرف چاول کی برآمدات کا رخ موڑنے کا فیصلہ

اہم بحری راستوں میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے بحری جہازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن، لاجسٹکس اور انشورنس کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کی چاول کی برآمدات

محکمہ تحفظِ نباتات نے فائٹوسینٹری سرٹیفیکیشن کو پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ منسلک کر دیا ہے، جس کے تحت اب 85 فیصد سے زائد سرٹیفکیٹس 24 گھنٹوں کے اندر جاری کیے جا رہے ہیں۔

May 18, 2026

اسلام آباد: خطے میں جاری بحری تجارتی خلل، مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روایتی راستوں پر تاخیر کے باعث پاکستان نے اپنی چاول کی برآمدات کا رخ افریقہ، وسطی ایشیا اور مشرقِ بعید کی نئی مارکیٹوں کی طرف موڑنے کے لیے حکمتِ عملی تیز کر دی ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق، اہم بحری راستوں میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے بحری جہازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن، لاجسٹکس اور انشورنس کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ کی روایتی مارکیٹوں میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت کو متاثر کیا ہے اور وہاں مختصر مدت کے لیے برآمدات میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس بحران کے جواب میں حکام متبادل زمینی اور بحری راہداریوں کو فروغ دے رہے ہیں، جبکہ برآمد کنندگان کی استعداد کار میں اضافہ اور طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بشمول ‘فائٹو سسٹم’ کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔ محکمہ تحفظِ نباتات نے فائٹوسینٹری سرٹیفیکیشن کو پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ منسلک کر دیا ہے، جس کے تحت اب 85 فیصد سے زائد سرٹیفکیٹس 24 گھنٹوں کے اندر جاری کیے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ، وزارتِ تجارت نے ایران کے زمینی راستے کے ذریعے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو چاول سمیت اہم اشیاء کی برآمد کے لیے ‘فنانشل انسٹرومنٹ’ کی شرط سے عارضی استثنیٰ بھی دے دیا ہے۔

پاکستان سالانہ 9 سے 10 ملین میٹرک ٹن چاول پیدا کرتا ہے اور 150 سے زائد ممالک کو برآمد کرتا ہے، جبکہ ملک کے پاس 4.5 سے 5.5 ملین میٹرک ٹن کا برآمدی سرپلس موجود ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، چاول کی مجموعی برآمدات مستحکم رہی ہیں، جو 2024 میں 4.38 ملین میٹرک ٹن کے مقابلے میں 2025 میں معمولی کمی کے ساتھ 4.32 ملین میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئیں۔

جنوری سے اپریل 2026 کے دوران چاول کی برآمدات تقریباً 1.49 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔ اس عرصے میں سرحدی بندشوں کے باعث افغانستان کو برآمدات صفر ہو گئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور چین کی مارکیٹس مضبوط رہیں۔ دوسری جانب، افریقی ممالک بالخصوص آئیوری کوسٹ کی مارکیٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو برآمدات کے تنوع کی عملی کامیابی کا ثبوت ہے۔

مزید برآں، کیڑے مار ادویات کے استعمال کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن اور فوڈ سیفٹی کے سخت اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں؛ یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی چاول کی کھیپ روکنے کے کیسز 2024 میں 77 سے کم ہو کر 2025 میں 38 رہ گئے، اور اپریل 2026 تک یہ تعداد مزید کم ہو کر صرف 5 کیسز پر آ گئی ہے، جو پریمیم مارکیٹوں میں معیاری برآمدات کی طرف ایک واضح پیش رفت ہے۔

دیکھئیے:اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن پر تبادلہ خیال

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *