اسلام آباد: خطے میں جاری بحری تجارتی خلل، مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور روایتی راستوں پر تاخیر کے باعث پاکستان نے اپنی چاول کی برآمدات کا رخ افریقہ، وسطی ایشیا اور مشرقِ بعید کی نئی مارکیٹوں کی طرف موڑنے کے لیے حکمتِ عملی تیز کر دی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق، اہم بحری راستوں میں پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے بحری جہازوں کو طویل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے ایندھن، لاجسٹکس اور انشورنس کی لاگت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ کی روایتی مارکیٹوں میں پاکستانی برآمدات کی مسابقت کو متاثر کیا ہے اور وہاں مختصر مدت کے لیے برآمدات میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اس بحران کے جواب میں حکام متبادل زمینی اور بحری راہداریوں کو فروغ دے رہے ہیں، جبکہ برآمد کنندگان کی استعداد کار میں اضافہ اور طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بشمول ‘فائٹو سسٹم’ کا استعمال بڑھایا جا رہا ہے۔ محکمہ تحفظِ نباتات نے فائٹوسینٹری سرٹیفیکیشن کو پاکستان سنگل ونڈو کے ساتھ منسلک کر دیا ہے، جس کے تحت اب 85 فیصد سے زائد سرٹیفکیٹس 24 گھنٹوں کے اندر جاری کیے جا رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، وزارتِ تجارت نے ایران کے زمینی راستے کے ذریعے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو چاول سمیت اہم اشیاء کی برآمد کے لیے ‘فنانشل انسٹرومنٹ’ کی شرط سے عارضی استثنیٰ بھی دے دیا ہے۔
پاکستان سالانہ 9 سے 10 ملین میٹرک ٹن چاول پیدا کرتا ہے اور 150 سے زائد ممالک کو برآمد کرتا ہے، جبکہ ملک کے پاس 4.5 سے 5.5 ملین میٹرک ٹن کا برآمدی سرپلس موجود ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، چاول کی مجموعی برآمدات مستحکم رہی ہیں، جو 2024 میں 4.38 ملین میٹرک ٹن کے مقابلے میں 2025 میں معمولی کمی کے ساتھ 4.32 ملین میٹرک ٹن ریکارڈ کی گئیں۔
جنوری سے اپریل 2026 کے دوران چاول کی برآمدات تقریباً 1.49 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئیں۔ اس عرصے میں سرحدی بندشوں کے باعث افغانستان کو برآمدات صفر ہو گئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات اور چین کی مارکیٹس مضبوط رہیں۔ دوسری جانب، افریقی ممالک بالخصوص آئیوری کوسٹ کی مارکیٹ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جو برآمدات کے تنوع کی عملی کامیابی کا ثبوت ہے۔
مزید برآں، کیڑے مار ادویات کے استعمال کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن اور فوڈ سیفٹی کے سخت اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں؛ یورپی یونین کی جانب سے پاکستانی چاول کی کھیپ روکنے کے کیسز 2024 میں 77 سے کم ہو کر 2025 میں 38 رہ گئے، اور اپریل 2026 تک یہ تعداد مزید کم ہو کر صرف 5 کیسز پر آ گئی ہے، جو پریمیم مارکیٹوں میں معیاری برآمدات کی طرف ایک واضح پیش رفت ہے۔
دیکھئیے:اسحاق ڈار کا ازبک ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، علاقائی امن پر تبادلہ خیال