"> ریاست ماں کی مانند ہے مگر دہشت گردوں کے لیے نہیں
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ریاست ماں کی مانند ہے مگر دہشت گردوں کے لیے نہیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست گمراہ افراد کی بحالی چاہتی ہے، مگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست گمراہ افراد کی بحالی چاہتی ہے، مگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا قومی سلامتی پر دوٹوک مؤقف؛ ریاست ماں کی مانند ہے مگر دہشت گردوں کے لیے نہیں، ملکی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔

May 19, 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست ہمیشہ اپنے شہریوں کے لیے ایک ماں کی مانند شفیق رہی ہے، تاہم ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے زیرو ٹالرینس کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔

سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ریاست کا بنیادی اصول ہمیشہ سے شفقت اور سخت نظم و ضبط کا امتزاج رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو عناصر دہشت گردوں کے پراپیگنڈے، جھوٹ اور گمراہ کن بیانیوں سے متاثر ہو کر واپس قومی دھارے میں آئے، ریاست نے ہمیشہ اپنے اجتماعی تدبر کے تحت انہیں موقع، تحفظ اور باعزت واپسی فراہم کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ یہ کسی ایک فرد کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ مستقل ریاستی پالیسی، اداروں اور قومی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ حکومت اور ریاستی اداروں نے مختلف مواقع پر طاقت اور مقصدیت کے ساتھ ان عناصر تک رسائی حاصل کی جو دشمن کے پروپیگنڈے اور دہشت گرد تنظیموں کے جھوٹ کا شکار ہوئے تھے، کیونکہ قومی مفاد میں مفاہمت اور بحالی ہمیشہ سے ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی سرپرستوں کے حوالے سے کسی قسم کا ابہام نہیں ہے۔

سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ریاست اس حقیقت کو سمجھتی ہے کہ دہشت گردی محض ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے استحکام اور خودمختاری کے خلاف منظم پراکسی جنگ ہے۔ قومی سلامتی کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنے والے عناصر اور ان کے سہولت کار ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی ناگزیر اور غیر مبہم ہے۔ چیک پوسٹوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ یہ چیک پوسٹیں عوام کی اپیل پر ہی کم کی گئی تھیں تاکہ ان کی نقل و حرکت میں آسانی ہو۔ انہوں نے اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے؛ گمراہ عناصر کی بحالی کے لیے گنجائش موجود ہے، مگر دہشت گردی کے لیے صفر برداشت ہے۔

دیکھیے: کے پی میں دہشت گردانہ واقعات کے باوجود اپوزیشن کی توجہ اڈیالہ جیل احتجاج پر مرکوز

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *