شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔

May 19, 2026

کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔

May 19, 2026

ملک میں دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کے باوجود تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی حکمتِ عملی کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں اہم اجلاس طلب کر لیا۔

May 19, 2026

علی احمد جلالی نے برطانوی پارلیمنٹ میں کہا کہ طالبان کا 23 ہزار اداروں پر مشتمل نظام نئی نسل کی عسکری ذہن سازی کر رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔

May 19, 2026

ریاست ماں کی مانند ہے مگر دہشت گردوں کے لیے نہیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست گمراہ افراد کی بحالی چاہتی ہے، مگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ریاست گمراہ افراد کی بحالی چاہتی ہے، مگر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی رعایت نہیں۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا قومی سلامتی پر دوٹوک مؤقف؛ ریاست ماں کی مانند ہے مگر دہشت گردوں کے لیے نہیں، ملکی رٹ چیلنج کرنے والوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔

May 19, 2026

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے قومی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے صوبائی اور وفاقی حکومت کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست ہمیشہ اپنے شہریوں کے لیے ایک ماں کی مانند شفیق رہی ہے، تاہم ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے زیرو ٹالرینس کی پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔

سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ریاست کا بنیادی اصول ہمیشہ سے شفقت اور سخت نظم و ضبط کا امتزاج رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو عناصر دہشت گردوں کے پراپیگنڈے، جھوٹ اور گمراہ کن بیانیوں سے متاثر ہو کر واپس قومی دھارے میں آئے، ریاست نے ہمیشہ اپنے اجتماعی تدبر کے تحت انہیں موقع، تحفظ اور باعزت واپسی فراہم کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ یہ کسی ایک فرد کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ مستقل ریاستی پالیسی، اداروں اور قومی حکمتِ عملی کا تسلسل ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مزید کہا کہ حکومت اور ریاستی اداروں نے مختلف مواقع پر طاقت اور مقصدیت کے ساتھ ان عناصر تک رسائی حاصل کی جو دشمن کے پروپیگنڈے اور دہشت گرد تنظیموں کے جھوٹ کا شکار ہوئے تھے، کیونکہ قومی مفاد میں مفاہمت اور بحالی ہمیشہ سے ریاستی حکمتِ عملی کا حصہ رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان کو دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور بیرونی سرپرستوں کے حوالے سے کسی قسم کا ابہام نہیں ہے۔

سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ ریاست اس حقیقت کو سمجھتی ہے کہ دہشت گردی محض ایک سیکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے استحکام اور خودمختاری کے خلاف منظم پراکسی جنگ ہے۔ قومی سلامتی کے خلاف مسلح کارروائیاں کرنے والے عناصر اور ان کے سہولت کار ریاستی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں، اس لیے ان کے خلاف کارروائی ناگزیر اور غیر مبہم ہے۔ چیک پوسٹوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یاد دلایا کہ یہ چیک پوسٹیں عوام کی اپیل پر ہی کم کی گئی تھیں تاکہ ان کی نقل و حرکت میں آسانی ہو۔ انہوں نے اختتام کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے؛ گمراہ عناصر کی بحالی کے لیے گنجائش موجود ہے، مگر دہشت گردی کے لیے صفر برداشت ہے۔

دیکھیے: کے پی میں دہشت گردانہ واقعات کے باوجود اپوزیشن کی توجہ اڈیالہ جیل احتجاج پر مرکوز

متعلقہ مضامین

شمالی وزیرستان کے شیوا میں آپریشن کے دوران 18 دہشت گرد ہلاک، سہولت کاروں کی ویڈیو بھی سامنے آ گئی۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا کے عوام فتنہ الخوارج کے خلاف میدان میں آ گئے، مختلف اضلاع میں وال چاکنگ کے ذریعے نور ولی کو اسلام اور علماء کا قاتل قرار دیا گیا۔

May 19, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد کی گئی ہے، ان کے مبہم بیانیے اور پولیس و سکیورٹی معاملات میں مبینہ غفلت پر تنقید کی گئی ہے۔

May 19, 2026

کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔

May 19, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *