اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

صدر پزشکیان کا کہنا ہے ایران طاقت کی پوزیشن میں ہے، اب جنگ ختم کرنا بہتر ہو گا۔

August 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔

August 21, 2026

سندھ طاس معاہدے پر یو این اسپیشل رپورٹرز کی ڈیڈلائن گزرے 155 دن مکمل؛ بھارت کا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں سے صریح انحراف

ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔
سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی مجرمانہ خاموشی

اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین نے 16 اکتوبر 2025 کو ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی، جس میں سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی بھارتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔

May 19, 2026

نیویارک: سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین کی جانب سے اٹھائے گئے اہم سوالات پر بھارت نے تاحال مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، اور رسمی جواب دینے کی مقررہ آخری تاریخ گزرے ہوئے 155 دن ہو چکے ہیں۔

سفارتی اور قانونی ماہرین کے مطابق، 16 دسمبر 2025 کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی نئی دہلی کا یہ طرزِ عمل بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں اور جوابدہی کے عالمی فریم ورک کو یکسر مسترد کرنے کے مترادف ہے۔

تفصیلات کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین نے 16 اکتوبر 2025 کو ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی، جس میں سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی بھارتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے نہ تو کوئی ٹھوس جواب جمع کرایا اور نہ ہی عوامی سطح پر اس معاملے پر کوئی موقف اختیار کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ طویل خاموشی آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریات سے متاثرہ ذہنیت کی عکاس ہے، جہاں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے بجائے داخلی سیاسی فائدے اور جارحانہ قوم پرستی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی اور عالمی اداروں سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا علاقائی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے اور اس سے امنِ عالم کو بھی نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔ بھارت کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ قواعد پر مبنی عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔

اگرچہ عارضی طور پر اس ہٹ دھرمی سے بھارت کے حکمران اندرونی سیاست میں فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن طویل مدت میں اس کے عالمی وقار کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ اب عالمی برادری کی توجہ صرف سندھ طاس معاہدے کی تفصیلات پر نہیں، بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے اس بھارتی پیٹرن پر مرکوز ہو رہی ہے، جو عالمی سفارتی عمل کی تذلیل کا سبب بن رہا ہے۔

دیکھئیے:سندھ طاس معاہدے پر مستقل ثالثی عدالت کا پاکستان کے حق میں تاریخی فیصلہ؛ معاہدے پر بھارتی بائیکاٹ اور پاکستان کی قانونی فتح

متعلقہ مضامین

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *