نیویارک: سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین کی جانب سے اٹھائے گئے اہم سوالات پر بھارت نے تاحال مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، اور رسمی جواب دینے کی مقررہ آخری تاریخ گزرے ہوئے 155 دن ہو چکے ہیں۔
سفارتی اور قانونی ماہرین کے مطابق، 16 دسمبر 2025 کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی نئی دہلی کا یہ طرزِ عمل بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں اور جوابدہی کے عالمی فریم ورک کو یکسر مسترد کرنے کے مترادف ہے۔
تفصیلات کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین نے 16 اکتوبر 2025 کو ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی، جس میں سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی بھارتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے نہ تو کوئی ٹھوس جواب جمع کرایا اور نہ ہی عوامی سطح پر اس معاملے پر کوئی موقف اختیار کیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ طویل خاموشی آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریات سے متاثرہ ذہنیت کی عکاس ہے، جہاں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے بجائے داخلی سیاسی فائدے اور جارحانہ قوم پرستی کو ترجیح دی جاتی ہے۔
مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی اور عالمی اداروں سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا علاقائی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے اور اس سے امنِ عالم کو بھی نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔ بھارت کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ قواعد پر مبنی عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔
اگرچہ عارضی طور پر اس ہٹ دھرمی سے بھارت کے حکمران اندرونی سیاست میں فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن طویل مدت میں اس کے عالمی وقار کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ اب عالمی برادری کی توجہ صرف سندھ طاس معاہدے کی تفصیلات پر نہیں، بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے اس بھارتی پیٹرن پر مرکوز ہو رہی ہے، جو عالمی سفارتی عمل کی تذلیل کا سبب بن رہا ہے۔