"> سندھ طاس معاہدے پر یو این اسپیشل رپورٹرز کی ڈیڈلائن گزرے 155 دن مکمل؛ بھارت کا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں سے صریح انحراف - HTN Urdu سندھ طاس معاہدے پر یو این اسپیشل رپورٹرز کی ڈیڈلائن گزرے 155 دن مکمل؛ بھارت کا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں سے صریح انحراف
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

سندھ طاس معاہدے پر یو این اسپیشل رپورٹرز کی ڈیڈلائن گزرے 155 دن مکمل؛ بھارت کا بین الاقوامی قوانین اور سفارتی اصولوں سے صریح انحراف

ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔
سندھ طاس معاہدے پر بھارت کی مجرمانہ خاموشی

اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین نے 16 اکتوبر 2025 کو ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی، جس میں سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی بھارتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔

May 19, 2026

نیویارک: سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین کی جانب سے اٹھائے گئے اہم سوالات پر بھارت نے تاحال مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے، اور رسمی جواب دینے کی مقررہ آخری تاریخ گزرے ہوئے 155 دن ہو چکے ہیں۔

سفارتی اور قانونی ماہرین کے مطابق، 16 دسمبر 2025 کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے بعد بھی نئی دہلی کا یہ طرزِ عمل بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں اور جوابدہی کے عالمی فریم ورک کو یکسر مسترد کرنے کے مترادف ہے۔

تفصیلات کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے خصوصی مبصرین نے 16 اکتوبر 2025 کو ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی، جس میں سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی بھارتی اقدامات پر سنگین سوالات اٹھائے گئے تھے۔ ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے نہ تو کوئی ٹھوس جواب جمع کرایا اور نہ ہی عوامی سطح پر اس معاملے پر کوئی موقف اختیار کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ طویل خاموشی آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریات سے متاثرہ ذہنیت کی عکاس ہے، جہاں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے بجائے داخلی سیاسی فائدے اور جارحانہ قوم پرستی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی مسلسل خلاف ورزی اور عالمی اداروں سے جان بوجھ کر دوری اختیار کرنا علاقائی استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے اور اس سے امنِ عالم کو بھی نقصانات پہنچ سکتے ہیں۔ بھارت کا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ قواعد پر مبنی عالمی نظام کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے۔

اگرچہ عارضی طور پر اس ہٹ دھرمی سے بھارت کے حکمران اندرونی سیاست میں فائدہ اٹھا رہے ہیں، لیکن طویل مدت میں اس کے عالمی وقار کو شدید دھچکا پہنچ رہا ہے۔ اب عالمی برادری کی توجہ صرف سندھ طاس معاہدے کی تفصیلات پر نہیں، بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے اس بھارتی پیٹرن پر مرکوز ہو رہی ہے، جو عالمی سفارتی عمل کی تذلیل کا سبب بن رہا ہے۔

دیکھئیے:سندھ طاس معاہدے پر مستقل ثالثی عدالت کا پاکستان کے حق میں تاریخی فیصلہ؛ معاہدے پر بھارتی بائیکاٹ اور پاکستان کی قانونی فتح

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *