اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں امن و امان کی دگرگوں صورتحال، بڑھتی ہوئی کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی پر عوامی احتساب سے بچنے کے لیے صوبائی حکومت نے ایک بار پھر روایتی “سڑک بند سیاست” کا سہارا لے لیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے سنگجانی کے مقام پر مرکزی شاہراہ کو بند کرنا ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور عوام دشمن طرزِ عمل ہے، جس نے عام شہریوں، مریضوں، طلبہ اور دیہاڑی دار مزدوروں کی زندگی کو شدید مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ سیاسی و سماجی حلقوں نے اس عمل کو ایک منتخب وزیرِ اعلیٰ کے منصب کے منافی اور محض میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کا سستا ذریعہ قرار دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) ماضی میں بھی اڈیالہ جیل کے باہر مختلف ڈراموں، میڈیا شوز اور سیاسی شعبدہ بازی کے ذریعے عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی ناکام کوششیں کر چکی ہے۔ جب ان تمام ہتھکنڈوں میں عوام نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی، تو اب اسلام آباد کی اہم ترین شاہراہ کو بلاک کر کے شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کی جا رہی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام اس وقت شدید بدامنی، معاشی بحران اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا کر رہے ہیں، اور جب وہ صوبائی حکومت سے کارکردگی کا حساب مانگتے ہیں، تو جواب میں انہیں کارکردگی کے بجائے سڑک بند کرنے کا تماشہ دکھا دیا جاتا ہے۔
عوام اب ان کھوکھلے نعروں، ٹک ٹاک کلپس اور سستی شہرت کے ڈراموں سے مکمل طور پر لاچار اور بیزار ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت کیمروں اور مسخروں کی نہیں بلکہ سنجیدہ منتظمین اور ترقی کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی کا یہ پرانا فارمولا اب بے نقاب ہو چکا ہے کہ جب حکومت نہ چل سکے تو ڈرامہ شروع کر دو، اور جب کارکردگی صفر ہو تو شور مچا دو۔ اڈیالہ جیل کے ڈراموں کی طرح سنگجانی کا یہ شو بھی عوامی سطح پر شدید نفرت اور مسترد کیے جانے کے بعد بری طرح فلاپ ہو گا۔ سیاست کا مقصد عوام کی خدمت اور انہیں ریلیف فراہم کرنا ہے، نہ کہ اپنی انتظامی ناکامیاں چھپانے کے لیے ان کی زندگی کو عذاب بنانا۔
دیکھئیے:کے پی میں بدامنی اور دہشت گردی کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد، ناقص گورننس پر شدید ردعمل