"> امریکی صدر ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن بھی چین پہنچ گئے؛ مختلف سفارتی پروٹوکولز اور تزویراتی تعلقات کا موازنہ - HTN Urdu امریکی صدر ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن بھی چین پہنچ گئے؛ مختلف سفارتی پروٹوکولز اور تزویراتی تعلقات کا موازنہ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ کے بعد روسی صدر پیوٹن بھی چین پہنچ گئے؛ مختلف سفارتی پروٹوکولز اور تزویراتی تعلقات کا موازنہ

روسی صدر کا اپنے ہم منصب شی جن پنگ کے ملک کا یہ پچیسواں دورہ ہے، جو چین اور روس کے مابین “ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے” کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔
روسی صدر چین پہنچ گئے

چینی میڈیا نے دونوں عالمی رہنماؤں کو دیے جانے والے پروٹوکولز کے واضح فرق اور ان کی سفارتی نوعیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔

May 19, 2026

بیجنگ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم دورہ چین کے محض چار دن بعد اب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی ایک بڑے سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچ گئے ہیں۔ ہوائی اڈے پر چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے روسی صدر کا پرتپاک استقبال کیا، جہاں چینی افواج کے چاک و چوبند دستے نے صدر پیوٹن کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور نوجوانوں نے دونوں ممالک کے پرچم لہرا کر انہیں خوش آمدید کہا۔

روسی صدر کا اپنے ہم منصب شی جن پنگ کے ملک کا یہ پچیسواں دورہ ہے، جو چین اور روس کے مابین “ہمسائیگی اور دوستانہ تعاون کے معاہدے” کی پچیسویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے، جسے دونوں طاقتوں کے سٹرٹیجک تعلقات کی مضبوط بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

چینی میڈیا نے دونوں عالمی رہنماؤں کو دیے جانے والے پروٹوکولز کے واضح فرق اور ان کی سفارتی نوعیت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صدر پیوٹن اپنے قیام کے دوران دیاؤیوتائی اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ٹھہریں گے جو غیر ملکی سربراہان مملکت کی میزبانی کا روایتی اور معتبر ترین مقام ہے۔

اس کے برعکس، چند روز قبل آنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال چین کے نائب صدر ہان ژینگ نے کیا تھا اور وہ بیجنگ میں امریکی سفارت خانے کے قریب واقع ایک نجی فائیو اسٹار ہوٹل میں مقیم رہے تھے۔ صدر ٹرمپ کے دورے کا اختتام چینی قیادت کے خصوصی کمپاؤنڈ ژونگ نان ہائی باغ میں چائے اور ورکنگ لنچ پر ہوا تھا، جہاں بہت کم غیر ملکی رہنماؤں کو رسائی دی جاتی ہے۔

چینی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان مختلف سفارتی ضابطوں سے بیجنگ کے واشنگٹن اور ماسکو کے ساتھ تعلقات کی اصل نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔ چونکہ امریکہ اور چین کے تعلقات میں تناؤ اور تجارتی کشیدگی موجود ہے، اس لیے ٹرمپ کو ژونگ نان ہائی تک رسائی دینے اور غیر روایتی مہمان نوازی کا مقصد دونوں معیشتوں کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ دینا تھا۔

دوسری جانب، پیوٹن کے لیے وزیر خارجہ کی سطح پر استقبال اور روایتی سرکاری گیسٹ ہاؤس میں قیام اس گہرے، پائیدار اور تزویراتی باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے جو ماسکو اور بیجنگ کے مابین پہلے سے قائم ہے اور جس کی مضبوطی ثابت کرنے کے لیے کسی اضافی علامتی اقدام کی ضرورت نہیں۔ صدر پیوٹن اپنے سرکاری دورے کا باقاعدہ آغاز بدھ کی صبح تیانانمن اسکوائر میں ایک پروقار تقریب سے کریں گے جس کے بعد صدر شی جن پنگ سے ان کی اہم ترین ملاقات ہوگی۔

دیکھئیے:پاک چین ڈیجیٹل شراکت داری کا نیا رخ؛ ای کامرس صنعت میں تیزی، پاکستانی طلبہ کا وفد تربیت کے لیے چین پہنچ گیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *