نئی دہلی: دنیا کی “سب سے بڑی جمہوریت” کا دعویٰ کرنے والے ملک بھارت کا اصل چہرہ اس وقت عالمی سطح پر بے نقاب ہو گیا جب ناروے سے تعلق رکھنے والی معروف آزاد خاتون صحافی ہیلے لِنگ کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت سے تلخ سوالات پوچھنے کی پاداش میں ایک منظم آن لائن ہراسانی اور سائبر حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، ہیلے لِنگ نے مودی حکومت کی جانب سے آزاد اور خودمختار میڈیا کا سامنا کرنے سے مسلسل انکار اور پریس کانفرنسز سے فرار پر کھل کر سوالات اٹھائے تھے۔ اس جرات مندانہ اقدام کے فوراً بعد ہی مودی کے حامی انتہا پسندوں کی جانب سے ان کے خلاف ایک شدید سوشل میڈیا مہم کا آغاز کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں اچانک ان کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی معطل کر دیا گیا۔ خاتون صحافی نے انکشاف کیا کہ وہ پورا دن اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے جدوجہد کرتی رہیں، جس کے بعد انہیں پلیٹ فارم کی جانب سے معطلی کا نوٹس موصول ہوا۔
سفارتی اور صحافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے کھوکھلے نعرے کے پیچھے چھپی اصل حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ یورپی صحافی اب خود اس تجربے سے گزر رہے ہیں جس کا شکار بھارت کے مقامی آزاد رپورٹرز برسوں سے ہو رہے ہیں، جہاں اختلافی آوازوں کو دبانے کے لیے آن لائن ہراسانی، دھمکی آمیز نیٹ ورکس اور باقاعدہ ریاستی و ڈیجیٹل دباؤ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
دیکھئیے:چکن نیک کی 120 ایکڑ اراضی مرکز کے حوالے؛ مودی حکومت اور اڈانی گٹھ جوڑ پر سوالات