"> تاریخی ریلیف کے بعد بھی ہڑتال کال؛ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی منفی سیاست بے نقاب - HTN Urdu تاریخی ریلیف کے بعد بھی ہڑتال کال؛ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹ کی منفی سیاست بے نقاب
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

تاریخی ریلیف کے بعد بھی ہڑتال کال؛ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی منفی سیاست بے نقاب

عوام کی سہولت کے لیے بجلی کے بقایاجات کو 36 آسان اقساط میں تقسیم کیا گیا ہے، منگلا ڈیم سے متعلق بجلی کے بقایاجات معاف کر دیے گئے ہیں۔
کشمیر میں ہڑتال کال

حکومتِ آزاد کشمیر نے خطے کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد عملی اور بڑے اقدامات کیے ہیں۔

May 20, 2026

مظفرآباد: آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے تاریخی معاشی پیکج اور مروجہ مطالبات کی منظوری کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے 9 جون کی ہڑتال کی کال نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

سیاسی اور سماجی حلقوں کے مطابق، جب عوامی ریلیف عملی طور پر زمین پر آ چکا ہو تو اس کے بعد بھی احتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھنا عوامی حق کے بجائے محض سیاسی ضد، انتشار اور بلیک میلنگ کی عکاسی کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، حکومتِ آزاد کشمیر نے خطے کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد عملی اور بڑے اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں احتجاج کے دوران درج کی گئی 177 ایف آئی آرز کی واپسی، 118 ملین روپے سے زائد کے معاوضوں کی ادائیگی، 5 کلو واٹ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، اور بجلی کے بلوں پر عائد سرچارجز کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔

مزید برآں، عوام کی سہولت کے لیے بجلی کے بقایاجات کو 36 آسان اقساط میں تقسیم کیا گیا ہے، منگلا ڈیم سے متعلق بجلی کے بقایاجات معاف کر دیے گئے ہیں اور صحت کارڈ کی بہترین سہولت بھی بحال کر دی گئی ہے۔

ان تمام بڑے ریلیف پیکیجز، معاوضوں اور سہولیات کی فراہمی کے بعد بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ہڑتال پر بضد رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کمیٹی کا مقصد عوامی فلاح نہیں بلکہ سیاسی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے مثبت رویہ دکھاتے ہوئے عملی اقدامات کیے، مگر ایکشن کمیٹی نے تصادم کا راستہ چنا، جو کہ عوام کے زخموں پر سیاست کرنے کے مترادف ہے۔

آزاد کشمیر کے غیور عوام اس وقت امن، روزگار اور معاشی ترقی چاہتے ہیں، نہ کہ سڑکوں کی بندش اور کاروباری زندگی کا معطل ہونا۔ اب وقت آگیا ہے کہ منفی سیاست کے بجائے ذمہ دارانہ قیادت کا مظاہرہ کیا جائے، کیونکہ آزاد کشمیر کا مستقبل تصادم میں نہیں بلکہ استحکام اور ترقی میں پوشیدہ ہے۔

دیکھئیے:حکومتی پیش رفت اور اربوں کے ترقیاتی منصوبوں کے باوجود شٹر ڈاؤن کی ضد؛ شوکت نواز، سردار عمر اور امان اللہ کی سیاست پر سنجیدہ سوالات

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *