مظفرآباد: آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے تاریخی معاشی پیکج اور مروجہ مطالبات کی منظوری کے باوجود جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی طرف سے 9 جون کی ہڑتال کی کال نے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سیاسی اور سماجی حلقوں کے مطابق، جب عوامی ریلیف عملی طور پر زمین پر آ چکا ہو تو اس کے بعد بھی احتجاج اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھنا عوامی حق کے بجائے محض سیاسی ضد، انتشار اور بلیک میلنگ کی عکاسی کرتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، حکومتِ آزاد کشمیر نے خطے کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعدد عملی اور بڑے اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں احتجاج کے دوران درج کی گئی 177 ایف آئی آرز کی واپسی، 118 ملین روپے سے زائد کے معاوضوں کی ادائیگی، 5 کلو واٹ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، اور بجلی کے بلوں پر عائد سرچارجز کا مکمل خاتمہ شامل ہے۔
مزید برآں، عوام کی سہولت کے لیے بجلی کے بقایاجات کو 36 آسان اقساط میں تقسیم کیا گیا ہے، منگلا ڈیم سے متعلق بجلی کے بقایاجات معاف کر دیے گئے ہیں اور صحت کارڈ کی بہترین سہولت بھی بحال کر دی گئی ہے۔
ان تمام بڑے ریلیف پیکیجز، معاوضوں اور سہولیات کی فراہمی کے بعد بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا ہڑتال پر بضد رہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ کمیٹی کا مقصد عوامی فلاح نہیں بلکہ سیاسی دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے مثبت رویہ دکھاتے ہوئے عملی اقدامات کیے، مگر ایکشن کمیٹی نے تصادم کا راستہ چنا، جو کہ عوام کے زخموں پر سیاست کرنے کے مترادف ہے۔
آزاد کشمیر کے غیور عوام اس وقت امن، روزگار اور معاشی ترقی چاہتے ہیں، نہ کہ سڑکوں کی بندش اور کاروباری زندگی کا معطل ہونا۔ اب وقت آگیا ہے کہ منفی سیاست کے بجائے ذمہ دارانہ قیادت کا مظاہرہ کیا جائے، کیونکہ آزاد کشمیر کا مستقبل تصادم میں نہیں بلکہ استحکام اور ترقی میں پوشیدہ ہے۔