شمالی وزیرستان کے علاقے سپن وام میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک مؤثر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے ایک اہم اور خطرناک خارجی سرغنہ عمر عرف جان میر عرف تور ثاقب کو اس کے 3 ساتھیوں سمیت ہلاک کر دیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کامیاب کاروائی مصدقہ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی۔ ہلاک ہونے والا خارجی سرغنہ عمر عرف ثاقب سکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر ہونے والے متعدد مہیب دہشت گردانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اور حکومت کی جانب سے اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ دہشت گرد نے سپن وام کے علاقے میں واقع بوبالی مسجد کے اطراف باقاعدہ زیرِ زمین بنکر، خفیہ سرنگیں اور بارودی سرنگوں کا جال بچھا رکھا تھا، جسے فورسز نے انتہائی مہارت کے ساتھ ناکارہ بنا دیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے شمالی وزیرستان اور مضافاتی علاقوں میں فتنہ الخوارج کے خلاف سخت ترین کاروائیاں جاری ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔ سکیورٹی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ علاقے سے دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے اور امن و امان کی بحالی تک یہ کاروائیاں بلا امتیاز جاری رکھی جائیں گی۔
دیکھیے: سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم افغانی کمانڈر بصیر ہلاک