"> ترکیہ میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف آپریشن
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ترکیہ میں غیر قانونی افغان تارکینِ وطن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، درجنوں گرفتاریاں

جرمنی اور ایران کے بعد ترکیہ نے بھی داخلی سلامتی اور جرائم میں اضافے کے باعث غیر قانونی افغان تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر کے نئی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔
جرمنی اور ایران کی پیروی کرتے ہوئے ترکیہ نے بھی داخلی سلامتی اور جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیشِ نظر غیر قانونی افغان تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر کے گرفتاریوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ترکیہ میں غیر قانونی افغان تارکینِ وطن کے خلاف سیکیورٹی اداروں کا بڑا کریک ڈاؤن۔ جرمنی اور ایران کے بعد ترکی نے بھی داخلی امن و امان اور قومی مفاد کی خاطر سخت ترین سیکیورٹی اقدامات کا فیصلہ کر لیا۔

May 23, 2026

غیر قانونی طور پر مقیم افغان تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد داخلی سلامتی اور امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے باعث متعلقہ حکومتوں نے ان کے خلاف پالیسیوں کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ جرمنی، پاکستان اور ایران کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ اقدامات کے بعد اب ترکیہ نے بھی ملک میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف ایک منظم اور وسیع تر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نئی گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق حالیہ چند مہینوں کے دوران میزبان ممالک میں افغان تارکینِ وطن کی جانب سے سنگین جرائم کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان بگڑتے ہوئے حالات نے مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اقدامات پر مجبور کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میزبان ممالک بین الاقوامی دباؤ یا انسانی ہمدردی کے روایتی جذبات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے قومی مفادات اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔

ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ملک کے مختلف شہروں بالخصوص سرحدی علاقوں اور بڑے صنعتی مراکز میں تفتیشی عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس جامع کارروائی کا مقصد غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور ملک کے اندر چھپے عناصر کی بیخ کنی کرنا ہے۔

جرمنی اور ایران کے بعد ترکی کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ خطے اور یورپ میں غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے اب زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے تاکہ داخلی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے۔

دیکھیے: طالبان کا نیا عائلی قانون؛ خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید سلب ہونے کا خدشہ

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *