غیر قانونی طور پر مقیم افغان تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد داخلی سلامتی اور امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے باعث متعلقہ حکومتوں نے ان کے خلاف پالیسیوں کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ جرمنی، پاکستان اور ایران کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ اقدامات کے بعد اب ترکیہ نے بھی ملک میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف ایک منظم اور وسیع تر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نئی گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔
دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق حالیہ چند مہینوں کے دوران میزبان ممالک میں افغان تارکینِ وطن کی جانب سے سنگین جرائم کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان بگڑتے ہوئے حالات نے مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اقدامات پر مجبور کیا ہے۔
غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف میزبان ممالک کا شکنجہ سخت،ترکیہ میں گرفتاریوں کی نئی لہر
— PTV News (@PTVNewsOfficial) May 23, 2026
غیر قانونی افغان مہاجرین میزبان ممالک کی داخلی سیکیورٹی اور امن و امان کیلیے سنگین چیلنج بن گئے
جرمنی اور ایران کے بعد ترکیہ میں بھی غیر قانونی افغان مہاجرین کیخلاف کریک ڈاؤن تیز، نئی… pic.twitter.com/3wTj8fJ6fV
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میزبان ممالک بین الاقوامی دباؤ یا انسانی ہمدردی کے روایتی جذبات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے قومی مفادات اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔
ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ملک کے مختلف شہروں بالخصوص سرحدی علاقوں اور بڑے صنعتی مراکز میں تفتیشی عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس جامع کارروائی کا مقصد غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور ملک کے اندر چھپے عناصر کی بیخ کنی کرنا ہے۔
جرمنی اور ایران کے بعد ترکی کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ خطے اور یورپ میں غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے اب زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے تاکہ داخلی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے۔
دیکھیے: طالبان کا نیا عائلی قانون؛ خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید سلب ہونے کا خدشہ