فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران میں اعلیٰ سطحی عسکری سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات کے مثبت تسلسل کے نتیجے میں عالمی ڈیڈ لاک ٹوٹ گیا ہے اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

May 24, 2026

لداخ میں بھارتی فوج کا چییتا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے بعد، نئی دہلی کی جانب سے 1960 کی دہائی کے پرانے ونٹیج ہیلی کاپٹرز پر مسلسل انحصار اور فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

May 24, 2026

ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون ‘پکتاسنت سرونڈا’ کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے پاکستان کی زراعت، توانائی اور انسانی سلامتی کو براہِ راست خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 24, 2026

پاکستان کا سول سروس نظام صوبائی عصبیت سے بالاتر ہو کر میرٹ کی پاسداری کی اعلیٰ مثال بن گیا ہے، جہاں ملک کے چار اہم ترین انتظامی حصوں میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نامور افسران بطور چیف سیکریٹریز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

May 24, 2026

آزاد کشمیر میں عوامی حقوق کے نام پر سرگرم بعض نام نہاد تحریکوں اور جعلی انقلابیوں کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے، جو بیرونی فنڈنگ اور غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر خطے میں بدامنی اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔

May 24, 2026

ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت کی جانب سے 2025 میں سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور پاکستان کی آبی سلامتی پر وار ہے۔

May 23, 2026

ترکیہ میں غیر قانونی افغان تارکینِ وطن کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، درجنوں گرفتاریاں

جرمنی اور ایران کے بعد ترکیہ نے بھی داخلی سلامتی اور جرائم میں اضافے کے باعث غیر قانونی افغان تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر کے نئی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔
جرمنی اور ایران کی پیروی کرتے ہوئے ترکیہ نے بھی داخلی سلامتی اور جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیشِ نظر غیر قانونی افغان تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر کے گرفتاریوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

ترکیہ میں غیر قانونی افغان تارکینِ وطن کے خلاف سیکیورٹی اداروں کا بڑا کریک ڈاؤن۔ جرمنی اور ایران کے بعد ترکی نے بھی داخلی امن و امان اور قومی مفاد کی خاطر سخت ترین سیکیورٹی اقدامات کا فیصلہ کر لیا۔

May 23, 2026

غیر قانونی طور پر مقیم افغان تارکینِ وطن کی بڑھتی ہوئی تعداد داخلی سلامتی اور امن و امان کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے، جس کے باعث متعلقہ حکومتوں نے ان کے خلاف پالیسیوں کو انتہائی سخت کر دیا ہے۔ جرمنی، پاکستان اور ایران کی جانب سے کیے جانے والے حالیہ اقدامات کے بعد اب ترکیہ نے بھی ملک میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف ایک منظم اور وسیع تر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں نئی گرفتاریوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق حالیہ چند مہینوں کے دوران میزبان ممالک میں افغان تارکینِ وطن کی جانب سے سنگین جرائم کی وارداتوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان بگڑتے ہوئے حالات نے مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی اداروں کو غیر معمولی اقدامات پر مجبور کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ میزبان ممالک بین الاقوامی دباؤ یا انسانی ہمدردی کے روایتی جذبات کو بالائے طاق رکھ کر اپنے قومی مفادات اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دیں۔

ترک سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ملک کے مختلف شہروں بالخصوص سرحدی علاقوں اور بڑے صنعتی مراکز میں تفتیشی عمل کو تیز کر دیا گیا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اس جامع کارروائی کا مقصد غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے والے نیٹ ورکس کا خاتمہ اور ملک کے اندر چھپے عناصر کی بیخ کنی کرنا ہے۔

جرمنی اور ایران کے بعد ترکی کی جانب سے اٹھائے جانے والے ان اقدامات سے واضح ہوتا ہے کہ خطے اور یورپ میں غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے اب زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے تاکہ داخلی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھا جا سکے۔

دیکھیے: طالبان کا نیا عائلی قانون؛ خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید سلب ہونے کا خدشہ

متعلقہ مضامین

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران میں اعلیٰ سطحی عسکری سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات کے مثبت تسلسل کے نتیجے میں عالمی ڈیڈ لاک ٹوٹ گیا ہے اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

May 24, 2026

لداخ میں بھارتی فوج کا چییتا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہونے کے بعد، نئی دہلی کی جانب سے 1960 کی دہائی کے پرانے ونٹیج ہیلی کاپٹرز پر مسلسل انحصار اور فوجیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کے رویے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

May 24, 2026

ہندوتوا نظریے کے تحت بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون ‘پکتاسنت سرونڈا’ کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس سے پاکستان کی زراعت، توانائی اور انسانی سلامتی کو براہِ راست خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

May 24, 2026

پاکستان کا سول سروس نظام صوبائی عصبیت سے بالاتر ہو کر میرٹ کی پاسداری کی اعلیٰ مثال بن گیا ہے، جہاں ملک کے چار اہم ترین انتظامی حصوں میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نامور افسران بطور چیف سیکریٹریز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

May 24, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *