جنوبی ایشیا میں سرحد پار آبی نظم و نسق اور علاقائی استحکام کے ضامن ‘سندھ طاس معاہدے’ کے خلاف بھارتی حکومت کے حالیہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات نے بین الاقوامی قوانین اور خطے کی آبی سیکیورٹی کے حوالے سے شدید ترین بحران پیدا کر دیا ہے۔ تاریخی پس منظر کے لحاظ سے یہ معاہدہ غیر معمولی پائیداری اور مضبوطی کا حامل رہا ہے۔ یہ پاک بھارت کے مابین 1965 اور 1971 کی بڑی جنگوں اور 1999 کے کارگل تصادم جیسے شدید ترین جغرافیائی و سیاسی حالات کے باوجود کامیابی سے برقرار رہا۔ مشکل ترین حالات میں بھی اس کا فعال رہنا اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ یہ جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم اور تکنیکی رابطہ کاری کے لیے ایک مستحکم اور متوازن ادارہ جاتی فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔
ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر
تاہم، دہائیوں پر محیط اس تاریخی تسلسل اور پائیداری کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے، ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر موجودہ بھارتی قیادت کی جانب سے سن 2025 میں اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل (ان ابیانس) کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔ یہ اچھوتا اقدام کئی دہائیوں پر مشتمل باہمی تعاون اور قائم شدہ سفارتی روایات سے ایک سنگین اور غیر معمولی انحراف ہے، جس نے پانی کے بہاؤ کی پیشگوئی اور قواعد و ضوابط پر مبنی عالمی نظام دونوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
قوانین کی خلاف ورزی
قانون دانوں کے مطابق، بھارت کا یہ یکطرفہ فیصلہ بین الاقوامی قانون کے بنیادی اور مسلمہ اصول ‘پکتاسنت سرونڈا’ یعنی “معاہدوں کی پاسداری ہر حال میں لازم ہے” کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس اقدام نے بین الاقوامی قانونی نظام اور معاہداتی ذمہ داریوں کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس معطلی کے باعث تنازعات کے حل، تکنیکی رابطہ کاری اور منصفانہ آبی تقسیم کے طویل مدتی ادارہ جاتی نظام بری طرح متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں دریائے سندھ کے پورے بیسن میں قانونی اور آبی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ قائم شدہ قانونی و ادارہ جاتی طریقہ کار سے گریز کر کے بھارت بین الاقوامی سطح پر معاہدوں کی انتخابی تعمیل کی ایک خطرناک مثال قائم کر رہا ہے، جس سے اس کی اپنی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انسانی تحفظ پر وار
اسٹریٹجک ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی اس یکطرفہ پالیسی اور ہٹ دھرمی کے براہِ راست اور ہولناک اثرات پاکستان کی ڈاون اسٹریم زراعت، توانائی کی سلامتی اور مجموعی انسانی تحفظ پر مرتب ہو رہے ہیں۔ قائم شدہ ضابطوں سے انحراف کر کے پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو متاثر کرنا پاکستان کی معاشی اور غذائی سیکیورٹی کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش ہے۔ اس رویے سے نئی دہلی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ سرحد پار دریاؤں کے عالمی کثیر الجہتی فریم ورکس کو کمزور کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔
قانون پسند مؤقف اور عزم
بھارتی یکطرفہ پسندی اور غیر قانونی طرزِ عمل کے برعکس، پاکستان کا مؤقف انتہائی ذمہ دارانہ اور عالمی قوانین کے عین مطابق رہا ہے۔ پاکستان نے معاہدے کی تمام شقوں پر سختی سے عملدرآمد جاری رکھا ہے اور غیر جانبدار ثالثی اداروں کے ساتھ مسلسل سفارتی و قانونی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے، جس نے عالمی برادری کی نظروں میں پاکستان کی اخلاقی ساکھ اور قانونی مؤقف کی مشروعیت کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ پاکستان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ تمام قانونی، سفارتی اور تکنیکی ذرائع سے اپنے قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا۔ پاکستان کی یہ پائیدار اور قانون پسندانہ حکمتِ عملی یہ ثابت کرتی ہے کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہداتی نظام کی پاسداری ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام اور باہمی حقوق کے تحفظ کی واحد ضمانت ہے۔