پاکستان کا سول سروس نظام اس بات کا واضح اور عملی ثبوت بن کر سامنے آیا ہے کہ قابلیت اور میرٹ کسی بھی صوبائی یا علاقائی شناخت سے بالاتر ہوتے ہیں۔ ملک کے موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ پاکستان کے صوبوں اور علاقائی حکومتوں میں تعینات 6 میں سے 4 چیف سیکریٹریز کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، جو ملکی تاریخ میں بیوروکریسی کے اندر میرٹ اور اہلیت کی ایک منفرد مثال ہے۔
کے پی کے افسران اہم مناصب پر
سرکاری اعداد و شمار اور حالیہ انتظامی تعیناتیوں کے مطابق، پشاور سے لے کر کوئٹہ، گلگت اور مظفرآباد تک خیبر پختونخوا کے نامور افسران اہم ترین انتظامی عہدوں پر فائز ہو کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔ ان مایہ ناز افسران میں خود صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری شاہاب علی شاہ، بلوچستان کے چیف سیکریٹری شکیل قادر خان، گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری ارشد مہمند اور ریاستِ آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹری خوشحال خان شامل ہیں۔ ان تمام اعلیٰ افسران کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہونا اس بات کی عکاسی ہے کہ ان کی قابلیت اور پیشہ ورانہ اہلیت کو قومی سطح پر بھرپور اعتماد حاصل ہے۔
مضبوط وفاق اور صلاحیتوں کا اعتراف
سیاسی اور انتظامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مضبوط وفاق اسی وقت قائم ہوتا ہے جب انسانی صلاحیتوں اور پیشہ ورانہ مہارت کو صوبائی حدود سے بالاتر ہو کر تسلیم کیا جائے۔ ان اہم تقرریوں سے ریاست کا یہی بنیادی اصول واضح ہوتا ہے کہ وفاقی سرکاری نظام کی اصل بنیاد صرف اور صرف میرٹ ہے۔ کے پی کے افسران کی دیگر صوبوں اور وفاقی اکائیوں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر تعیناتی علاقائی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
وفاق میں مواقع کا حصول
پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کا یہ حالیہ رجحان پورے ملک کے نوجوانوں اور سول سرونٹس کو ایک مضبوط پیغام دیتا ہے کہ اگر آپ کے پاس قابلیت، دیانت اور پیشہ ورانہ مہارت موجود ہے، تو پورا وفاق آپ کے لیے ترقی اور خدمت کے مواقع کھول دیتا ہے۔ بیوروکریسی کا یہ توازن اس امر کی توثیق کرتا ہے کہ ملکی ترقی کا سفر کسی مخصوص جغرافیائی دائرے کا محتاج نہیں، بلکہ جہاں بھی اہلیت ہوگی، ریاست اسے قومی دھارے میں سب سے آگے رکھے گی۔