پاکستان نے ایک بار پھر عالمی منظر نامے پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ محض خطے کا نہیں بلکہ عالمی امن و استحکام کا ایک انتہائی ذمہ دار اور ناگزیر ستون ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی طاقتیں شدید ترین ڈیڈ لاک کا شکار تھیں اور پورا خطہ ایک ہولناک جنگ کے دہانے پر کھڑا تھا، پاکستان نے اپنی کامیاب عسکری سفارت کاری اور خاموش بیک چینل رابطوں کے ذریعے پورے منظر نامے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہِ ایران اور حالیہ سلام آباد مذاکرات کی کڑی نے جنگی کشیدگی کو ختم کر کے فریقین کو مفاہمت کا راستہ دکھایا ہے۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی عکاس ہے کہ پاکستان بحرانوں کو بھڑکانے کے بجائے انہیں حکمت، وقار اور مؤثر ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
فیلڈ مارشل کی سفارت کاری
سفارتی ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ایران میں قیام کے دوران انتہائی حساس اور اہم نوعیت کی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں ایرانی قیادت کی جانب سے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کی بھرپور تحسین کی گئی، جو پاکستان کی عالمی ساکھ اور سی ڈی ایف کی کامیاب عسکری سفارت کاری کا کھلا اعتراف ہے۔
جہاں دنیا کو ایک ناگزیر تصادم کا خطرہ تھا، وہاں فیلڈ مارشل کی کاوشیں علاقائی امن کے لیے فیصلہ کن قدم ثابت ہوئیں اور ممکنہ تباہی کے سائے میں پاکستان امن کی روشنی بن کر سامنے آیا۔ یہ دورہ صرف روایتی سفارت کاری نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے پاکستان کی ذمہ دار قیادت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اسلام آباد مذاکرات اور عالمی پذیرائی
عسکری و سفارتی مبصرین اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق، اسلام آباد ٹاکس سے شروع ہونے والے سلسلے کے انتہائی مثبت اور تعمیری نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ جب بڑی عالمی طاقتیں کشیدگی کو کم کرنے میں ناکام ہو چکی تھیں، تب پاکستان نے ایک “پاور بروکر” کا کردار ادا کرتے ہوئے متصادم فریقین کو ایک میز پر بٹھایا اور بنیادی و اہم ترین نکات پر ان کے درمیان اتفاقِ رائے قائم کروایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آفیشل کنفرمیشن کے بعد یہ ڈیل پاکستان کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی فتح ثابت ہوگی، جس نے پاکستان کی عالمی جیو پولیٹکس کو بدلنے کی صلاحیت کو دنیا بھر میں منوا لیا ہے۔
عقابلِ اعتماد کردار اور مستقل بیانیہ
پاکستان نے اس بحران میں یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اس کا حتمی ہدف جنگ نہیں بلکہ مکالمہ، اور تباہی نہیں بلکہ استحکام ہے۔ سی ڈی ایف کی قیادت میں پاکستان نے ثابت کیا ہے کہ حقیقی طاقت جنگ کے طبل بجانے میں نہیں بلکہ جنگ روکنے اور امن قائم کرنے میں ہے۔
دنیا آج ایک ممکنہ بڑی تباہی سے بچاؤ کی امید پاکستان کے امن بیانیے، ذمہ دار قیادت اور سی ڈی ایف کی تعمیری کاوشوں میں دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کا کردار اب بالکل واضح ہو چکا ہے: خطے کو جنگ کی ہولناکی سے بچانا اور دنیا کو تزویراتی استحکام کی طرف لے جانا۔